Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک 1800 بچوں کی گرفتاریاں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز فلسطین برائے مطالعہ اسیران نے اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک فلسطینی بچوں کی گرفتاریوں اور ان پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم میں خطرناک حد تک اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سنگین عرصے کے دوران قابض اسرائیل نے 1800 سے زائد نابالغ فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے جن میں ایسے معصوم بھی شامل ہیں جن کی عمریں 10 سال سے بھی کم ہیں۔

مذکورہ مرکز نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ یہ گرفتاریاں محض اتفاقیہ نہیں ہیں بلکہ یہ فلسطینی بچپن کو نشانہ بنانے کی ایک منظم اور سفاکانہ پالیسی کا حصہ ہیں جو بڑھتے ہوئے جبر و استبداد کے تناظر میں کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں اس دردناک حقیقت کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر اپنے غاصبانہ قبضے کے آغاز سے لے کر اب تک دسیوں ہزار معصوم بچوں کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی ان مظالم کی شدت میں لرزہ خیز اضافہ ہوا ہے اور بچوں کے خلاف تشدد اور سفاکیت کی نئی شکلیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں بھوکا رکھنے جیسے انسانیت سوز حربے بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے قصبہ سلواد سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ فلسطینی بچے ولید احمد مجدو کے قابض صہیونی عقوبت خانے میں جام شہادت نوش کر گئے کیونکہ خوراک کی دانستہ قلت اور طبی نگہداشت نہ ملنے کے باعث ان کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ گئی تھی۔

مرکز نے بتایا کہ گرفتاریوں کے یہ آپریشن اکثر و بیشتر انتہائی پرتشدد اور وحشیانہ انداز میں کیے جاتے ہیں جن میں رات کی تاریکی میں فلسطینی خاندانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اور بچوں کو زبردستی گھسیٹ کر تفتیشی مراکز منتقل کر دیا جاتا ہے۔ وہاں ان معصوموں کو بہیمانہ مار پیٹ اور تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں ایسے غیر انسانی حالات میں قید رکھا جاتا ہے جو کسی بھی طور پر صحت اور انسانیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔

رپورٹ میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بچوں کو فوجی چوکیوں پر سکول جاتے یا واپس آتے ہوئے اور یہاں تک کہ اپنے گھروں کے باہر سے بھی اغوا نما گرفتاریوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ان تمام بچوں کو چاہے وہ مختصر مدت کے لیے ہی حراست میں لیے گئے ہوں مختلف درجات کے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے نرم و نازک ذہنوں پر گہرے زخم چھوڑ جاتا ہے۔

مرکز نے قابض اسرائیل کے حکام پر بچوں کے تحفظ سے متعلق تمام بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے جو بچوں پر تشدد یا ان کے ساتھ ظالمانہ اور تذلیل آمیز سلوک کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں۔ مرکز کا کہنا ہے کہ تفتیشی مراکز اور قابض صہیونی عقوبت خانوں میں جاری یہ مسلسل ممارست درحقیقت جنگی جرائم ہیں جن کا ارتکاب عالمی ضمیر کے سامنے کیا جا رہا ہے۔

عقوبت خانوں کے اندر قید ان ننے اسیروں کی حالت زار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں سخت ترین تادیبی کارروائیوں کا سامنا ہے جن میں چھوٹی کوٹھڑیوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسنا، والدین سے ملاقاتوں پر مکمل پابندی اور مجرمانہ طبی غفلت جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض فورسز کے دستے اکثر ان معصوموں پر دھاوے بولتے ہیں جن میں ان پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے، زہریلی گیس کا استعمال ہوتا ہے اور ان کی مختصر سی املاک کو برباد کر دیا جاتا ہے۔

مرکز نے نشاندہی کی ہے کہ اب بھی تقریبا 350 فلسطینی بچے قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں قید ہیں جن میں سے 163 کو نام نہاد عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ 90 بچے کسی بھی الزام یا ٹرائل کے بغیر انتظامی حراست کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں جن میں ایک معصوم بچی بھی شامل ہے اور باقی بچے اپنے مقدمات کے فیصلے کے منتظر ہیں۔

یہ اسیر بچے مجدو اور عوفر نامی عقوبت خانوں میں تقسیم ہیں جبکہ رپورٹ میں ایک دل چیر دینے والے واقعے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے جہاں ایک ایسا شیر خوار بچہ بھی قید ہے جس کی عمر محض سات ماہ ہے کیونکہ اس کی مظلوم ماں نے اسے اسیری کی حالت میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی جنم دیا تھا۔ یہ لرزہ خیز منظر ان انتہائی دردناک اور سفاکانہ حالات کی عکاسی کرتا ہے جن میں بچے اور تمام فلسطینی اسیران غاصب دشمن کے سائے میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan