غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں جب سورج اپنی پوری تمازت کے ساتھ دستک دے رہا ہے تو تشنگی کے ایک ہولناک اور بے مثال بحران نے سر اٹھا لیا ہے۔ قابض اسرائیل کی سفاکیت نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو تیشے سے لیر لیر کر دیا ہے جس کے نتیجے میں قابل استعمال پانی کی دستیابی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ یہ سنگین صورتحال بیس لاکھ سے زائد معصوم انسانوں کو خطے کے ہولناک ترین آبی تحفظ کے بحران کے دہانے پر لے آئی ہے جہاں زندگی کی رمق دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔
پانی کا یہ المیہ محض اس کی نایابی یا قلت تک محدود نہیں بلکہ اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی خوش نصیب کو پانی کے چند قطرے میسر آ بھی جائیں تو وہ زندگی بخشنے کے بجائے موت بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ غزہ میں اب پانی محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بقا کی ایک ایسی جدوجہد ہے جس میں فلسطینیوں کے حلق خشک اور آنکھیں پرنم ہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسف کے لرزہ خیز اعداد و شمار اس کرب کی گواہی دیتے ہیں کہ غزہ کا 90 فیصد سے زائد پانی اب پینے کے لائق نہیں رہا۔ نمکیات کی کڑواہٹ اور سیوریج کے پانی کی آمیزش نے زیر زمین آبی ذخائر کو زہر آلود کر دیا ہے۔ قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے برپا کی گئی اس سفاکانہ جنگ نے آبی نیٹ ورکس اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو اس طرح پیوند خاک کیا ہے کہ پانی کی فراہمی کا پورا نظام سسک رہا ہے۔
اعداد و شمار کے لرزہ خیز حقائق
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق غزہ کا بنیادی ڈھانچہ اب ایک قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ قابض اسرائیل نے پانی اور نکاسی آب کی تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر انسانیت کی تذلیل کی ہے جس کا براہ راست اثر معصوم شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق غزہ میں ایک فرد کو میسر پانی کی مقدار عالمی سطح پر تجویز کردہ کم از کم حد سے بھی کئی گنا کم ہے جبکہ بجلی اور ایندھن کی مجرمانہ بندش نے پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بے جان مشینوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
غزہ پر اس خون آشام جنگ کے مسلط ہونے سے قبل ایک فلسطینی شہری کو یومیہ اوسطا 80 سے 85 لیٹر پانی میسر تھا جو اس کی گھریلو ضروریات کے لیے کسی حد تک کافی تھا۔ لیکن آج جب غاصب صہیونی دشمن نے زندگی کے ہر راستے کو مسدود کر دیا ہے تو بہت سے علاقوں میں یہ مقدار کم ہو کر محض 3 سے 5 لیٹر رہ گئی ہے۔ شمالی غزہ کے پیاسے مقہور انسانوں کو تو یومیہ صرف 5.7 لیٹر پانی پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ نقل مکانی کی اذیت جھیلنے والے خاندانوں کے حصے میں تو صرف 1.5 سے 2 لیٹر پانی ہی آپاتا ہے جو ان کی پیاس بجھانے کے لیے بھی ناکافی ہے۔
یونیسف کے مطابق غزہ کی 90 فیصد آبادی پینے کے محفوظ پانی سے محروم کر دی گئی ہے جبکہ 96 فیصد زیر زمین پانی انسانی استعمال کے لیے کسی زہر سے کم نہیں رہا۔ یہ سب اس غاصب دشمن کی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے جو فلسطینیوں کو بوند بوند کا محتاج دیکھنا چاہتا ہے۔ فلسطینی واٹر اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ صرف سپلائی کی کمی نہیں بلکہ ایک مکمل تباہی ہے جو غزہ کے باسیوں کے صحت اور غذائی تحفظ کے لیے براہ راست ایک موت کا پروانہ بن چکی ہے۔
موسم گرما: بڑھتی ہوئی پیاس اور بوند بوند کا نوحہ
جوں جوں پارہ چڑھ رہا ہے تپتی دھوپ میں پانی کی طلب بڑھتی جا رہی ہے لیکن پیاس کی یہ پکار سپلائی کی سنگین نایابی سے ٹکرا کر دم توڑ رہی ہے۔ 37 سالہ ام لؤی کے الفاظ غزہ کے ہر گھر کا نوحہ ہیں وہ کہتی ہیں کہ گرمیوں میں ہمیں دگنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہاں تو سوکھے حلق تر کرنے کو چند قطرے نہیں ملتے اور ہم پیاس بجھانے کے لیے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں جو ہماری بساط سے باہر ہے۔
نقل مکانی کے کیمپ میں پناہ گزین 50 سالہ ابو محمد نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ جو پانی ہمیں میسر ہے اس کی پاکیزگی کا کوئی اعتبار نہیں مگر اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔ یہاں کے باسی اب پانی کے ٹینکروں یا نجی فلٹریشن پلانٹس کے رحم و کرم پر ہیں جو پہلے سے مفلوک الحال فلسطینیوں پر ایک بھاری معاشی بوجھ ہے لیکن بقا کی یہ قیمت انہیں بہرصورت چکانی پڑ رہی ہے۔
سسکتی صحت اور معصوم زندگیوں پر شب خون
اس آبی سفاکیت کا سب سے المناک پہلو معصوم بچوں کی حالت زار ہے۔ صاف پانی کی عدم دستیابی ان کے نحیف جسموں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے اور گنجان آباد علاقوں میں وبائی امراض کا خطرہ ناگن کی طرح پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ آلودہ پانی اور بڑھتی ہوئی تپش بچوں میں شدید ہیضے اور ڈی ہائیڈریشن جیسے مہلک خطرات پیدا کر رہی ہے۔
غزہ کے ہسپتالوں کے ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ موسم گرما میں آنتوں کے انفیکشن کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگ مجبوراً غیر محفوظ اور آلودہ پانی پی رہے ہیں۔ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یہ آبی قلت اب محض ایک بحران نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے خلاف ایک خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے جہاں ہر پیاسا بچہ اور ہر تڑپتی ماں دنیا کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
