غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر مسلط نسل کشی کی مہم اور قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں جمعرات کے روز بیت لاہیا میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں دو سگے بھائی شہید ہو گئے۔
ہمارے نامہ نگار کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے شمالی غزہ کی پٹی میں واقع بیت لاہیا میں ابو تمام سکول کے عقب میں شہریوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 48 سالہ عبد المالک عبد اللہ العطار اور ان کے بھائی 45 سالہ عبد الستار عبد اللہ العطار جام شہادت نوش کر گئے۔
دریں اثنا غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں مخیم المغازی کے مشرق میں تعینات قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے شاہراہ صلاح الدین کی جانب اندھا دھند فائرنگ کی، جس کی زد میں آکر ایک خاتون سمیت 4 شہری زخمی ہو گئے۔
غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں بھی قابض دشمن کی فوجی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی، جبکہ خان یونس کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے گولہ باری کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں، جہاں بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی پناہ گاہوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری کی جا رہی ہے، جبکہ نام نہاد پیلی لائن کے اندر مکانات کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سامان کی نقل و حرکت، امداد کی فراہمی اور سفر پر ظالمانہ پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک قابض دشمن کی غداری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 767 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2144 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 760 لاشوں کو ملبے سے نکالا گیا ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری صہیونی سفاکیت اور وحشیانہ عدوان کے مجموعی شہداء کی تعداد اب تک 72,346 ہو چکی ہے اور زخمیوں کی تعداد 172,242 تک جا پہنچی ہے، جو غزہ کی پٹی پر جاری اس جنگ میں ہونے والے بھاری انسانی نقصان کی ہولناک عکاسی کرتی ہے۔
