غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یوم اسیران فلسطین کی مناسبت سے غزہ کی پٹی کی تمام گورنریوں میں مشتعل اور بڑے عوامی احتجاجی مارچ منعقد کیے گئے۔ یہ ریلیاں قومی و اسلامی قوتوں کی اسیران کمیٹی کی اپیل پر نکالی گئیں جس کا مقصد ہر سال 17 اپریل کو منائے جانے والے یوم اسیر ان کے موقع پر قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ ان ریلیوں میں اسیران کے اہل خانہ، انسانی حقوق کے اداروں، مزاحمتی دھڑوں اور شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔
غزہ شہر میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ جنکشن مواصلات سے شروع ہوا اور شہر کے مغرب میں واقع ریڈ کراس کے بین الاقوامی دفتر پر اختتام پذیر ہوا۔ ہزاروں شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اور اسیران کی تصاویر تھام رکھی تھیں اور وہ قومی وحدت کے حق میں اور اسیران کی رہائی کے لیے نعرے بازی کر رہے تھے۔
شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا: “ہمارے اسیران ثابت قدمی کا نشان ہیں”، “سزائے موت کا قانون نامنظور”، “ہمارے بہادر اسیران صبر کی وہ داستان ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوگی”، “زنجیریں ارادوں کو نہیں توڑ سکتیں” اور “عالمی برادری کی خاموشی اسیران پر قابض اسرائیل کی درندگی کے لیے ہری جھنڈی ہے”۔ احتجاج کے دوران شرکاء “آزادی آزادی، اسیران کی آزادی”، “ایتمار بن گویر کان کھول کر سن لو، اسیر کبھی نہیں جھکے گا” اور “اے اندھیری رات! سحر تو ہو کر رہے گی” کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔
ریڈ کراس کے دفتر کے سامنے منعقدہ تقریب میں مقررین نے قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں اسیران کی زندگیوں کو درپیش سنگین خطرات پر روشنی ڈالی، خاص طور پر طبی غفلت، قید تنہائی اور بڑھتے ہوئے سفاکانہ اقدامات کے پیش نظر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض دشمن پر بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالے۔
ایک مرکزی مسئلہ اور نسل پرستانہ قانون
قومی و اسلامی قوتوں کی جانب سے تحریک فتح کے رہنما عماد الاغا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “اہل فلسطین اس بات پر متفق ہیں کہ اسیران کا مقدمہ ان کا مرکزی مسئلہ ہے اور یہ ان لوگوں کا حق ہے جنہوں نے آزادی کی قیمت اپنی جان و مال کی قربانیوں سے چکائی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “فلسطینی اس وقت ایک ایسے نسل پرستانہ قانون کا مقابلہ کر رہے ہیں جو اسیران کو سزائے موت دینے کا جواز فراہم کرتا ہے اور یہ عالمی قوانین سے صریح ٹکراؤ ہے”۔
عماد الاغا نے زور دے کر کہا کہ “یہ قانون فلسطینیوں کو خاموش نہیں کر سکے گا اور نہ ہی امن لا سکے گا بلکہ یہ فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں میں چیلنج کی نئی روح پھونکے گا”۔ انہوں نے اس قانون کی مذمت کے لیے عالمی موقف اپنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جاری سازشوں کا مقابلہ صرف قومی وحدت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے 30 مارچ کو سزائے موت کے قانون کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ان اسیران کو موت کی سزا دی جا سکے گی جو “قاتلانہ حملوں” میں ملوث ہوں گے۔ اس قانون کے مطابق جو شخص جان بوجھ کر کسی اسرائیلی شہری یا رہائشی کو قتل کرے گا تاکہ ریاست اسرائیل کے وجود کو نقصان پہنچایا جا سکے، اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔
اسیران کمیٹی کی جانب سے اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “غزہ کی پٹی تباہی اور فاقہ کشی کے باوجود اسیران کے مسئلے پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ “اسیران ہماری ریڈ لائن ہیں اور ان کی حمایت کے لیے ہر محاذ پر متحرک ہونا ضروری ہے”۔
انہوں نے بتایا کہ تنازع کے طویل برسوں کے دوران اب تک تقریباً دس لاکھ فلسطینی گرفتاری کے کرب سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے موجودہ مرحلے کو “خطرناک ترین” قرار دیا کیونکہ اب اسیران کی سزائے موت کا قانون بنا دیا گیا ہے اور جیلوں میں تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ حازم قاسم نے عالمی سطح پر یکجہتی کی سرگرمیوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیران اور ان کے اہل خانہ کے خلاف لیے گئے تادیبی اقدامات فوری ختم کریں، ان کا کہنا تھا کہ “اگر قابض اسرائیل جیلوں میں اسیران کو بھوکا رکھ رہا ہے تو باہر ان کے خاندانوں کو فاقوں پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے”۔
پیشہ ورانہ تنظیموں اور طبی عملے کے نمائندے محمد داؤد نے کہا کہ “اسرائیلی حکومت منظم دشمنی کی پالیسی پر گامزن ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ قابض اسرائیل نے اب تک 14 ڈاکٹروں اور درجنوں نرسوں و طبی عملے کو گرفتار کر رکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسیران کی زندگیوں سے کھیلنا خطرناک نتائج کا حامل ہوگا اور انسانی حقوق کے اداروں سے اس قانون کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا مطالبہ کیا۔
ننھے اسیران
اسی تناظر میں فلسطینی وزارت تعلیم نے اعلان کیا کہ تقریباً 350 فلسطینی بچے قابض اسرائیل کی جیلوں میں انتہائی کٹھن حالات میں قید ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزارت نے یوم اسیر کی مناسبت سے جاری بیان میں کہا کہ طلبہ کی گرفتاری اور انہیں تعلیم سے محروم کرنا ایک “منظم پالیسی” ہے۔ بچوں کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا جاتا ہے، ان پر وحشیانہ تشدد ہوتا ہے اور انہیں تعلیم و طبی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ دستاویزی شہادتوں کے مطابق کئی بچوں کو گھروں سے آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر اغوا کیا گیا اور انہیں ایسی جگہوں پر رکھا گیا جہاں زندگی کی کم از کم سہولیات بھی میسر نہیں۔
وزارت تعلیم نے ان اقدامات کو “حقوقِ اطفال” کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد طلبہ کے مستقبل اور شعور کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بچوں کی فوری رہائی اور ان کی تعلیمی اداروں میں واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
اہل فلسطین ہر سال 17 اپریل کو یوم اسیر کے طور پر مناتے ہیں تاکہ اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔ اس دن کو سنہ 1974ء میں فلسطینی قومی کونسل نے منظور کیا تھا۔
