Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

انتظامی حراست فلسطینیوں کے خلاف بڑا ہتھیار بن چکی ہے: عبداللہ قندیل

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جمعیت برائے اسیران “واعد” کے ڈائریکٹر عبداللہ قندیل نے کہا ہے کہ فلسطینی اسیران کی زندگیوں کو اس وقت غیر معمولی تبدیلیوں کا سامنا ہے، جہاں ان کی تعداد میں ہوشربا اضافہ محض عددی اشاریہ نہیں بلکہ ایک ایسی سوچی سمجھی پالیسی کا عکاس ہے جس کا مقصد اسیر کی زندگی پر مکمل تسلط قائم کرنا اور اس کے حقوق کو کم ترین سطح تک محدود کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ واقعات کے بعد قیدیوں کے دائرہ کار میں وسعت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قابض دشمن نے گرفتاریوں کو جدوجہد کے خلاف ایک مرکزی ہتھیار بنا لیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں عبداللہ قندیل نے انکشاف کیا کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر انسانی حقوق کی پامالیاں منظم اور انتہائی سفاکانہ رخ اختیار کر چکی ہیں، جن میں تشدد، قید تنہائی، بھوکا رکھنا اور طبی غفلت شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی حراست کو بغیر کسی مقدمے کے قید رکھنے کے لیے ایک کھلے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور محض رسمی بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مؤثر عالمی نگرانی نہ ہونے کے باعث اسیر خواتین اور بچوں کی طبی و نفسیاتی حالت تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔

ذیل میں انٹرویو کے اہم اقتباسات پیش ہیں:

اسیران کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آپ آج ان کی صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟

ہم اس وقت قومی اسیر تحریک کی تاریخ کے ایک غیر معمولی مرحلے سے گذر رہے ہیں، جہاں قیدیوں کی تعداد میں اضافہ محض ایک نمبر نہیں بلکہ اسیران کے ساتھ برتاؤ میں آنے والی ایک خوفناک تبدیلی کا اظہار ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض قید رکھنے کی پالیسی نہیں بلکہ جیل کے اندر اسیر کی زندگی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے، روزانہ کی بنیاد پر اسے ہراساں کرنے اور انسانی حقوق کو صفر تک لانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد گرفتاریوں کے دائرے میں غیر معمولی وسعت یہ ظاہر کرتی ہے کہ قابض اسرائیل کے لیے یہ کوئی استثنائی اقدام نہیں بلکہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے ارادوں کو توڑنے کا ایک بنیادی حربہ ہے۔

گذشتہ برسوں کے دوران جیلوں میں اسیران کو کن بڑی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے؟

مظالم اب روایتی شکلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ کہیں زیادہ سفاکیت اور منظم انداز میں ڈھائے جا رہے ہیں۔ اسیران کو بدترین تشدد، تنہائی، نقل و حرکت پر پابندی اور زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی عزتِ نفس اور انسانی وقار کو براہ راست نشانہ بنانے والے ذلت آمیز اقدامات کیے جاتے ہیں۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ تمام تر سفاکیت کسی بھی بیرونی نگرانی کے بغیر ایک بند ماحول میں کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے دستاویزی طور پر ثابت شدہ کیسز میں تشدد کے لرزہ خیز نمونے سامنے آئے ہیں۔

انتظامی حراست کی پالیسی میں اس قدر تیزی کیوں آئی اور اس کے اثرات کیا ہیں؟

انتظامی حراست کو آج ہر قانونی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایک کھلے لائسنس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحت کسی بھی فلسطینی کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے طویل عرصے تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غاصب صہیونی دشمن بغیر کسی قانونی ثبوت کے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو اپنے براہ راست قبضے اور شکنجے میں رکھنا چاہتا ہے۔ انسانی سطح پر یہ پالیسی اسیر اور اس کے خاندان کے لیے مسلسل ذہنی اذیت کا باعث ہے کیونکہ رہائی کی کوئی واضح امید یا وقت مقرر نہیں ہوتا، جبکہ قانونی طور پر یہ انصاف کے تصور کی مکمل نفی ہے۔

خواتین اور بچوں کی حالتِ زار کیا ہے، کیا ان کی خصوصیت کا خیال رکھا جاتا ہے؟

حقائق یہ بتاتے ہیں کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ ان کی ضرورت کے مطابق کوئی رعایت نہیں برتی جاتی، بلکہ انہیں بھی انہی سخت ترین حالات کا سامنا ہے جو دیگر اسیران کے لیے مخصوص ہیں۔ خاص طور پر بچوں کو گرفتاری کے پہلے لمحے (گھروں پر چھاپوں) سے لے کر قید تک ایسے تذلیل آمیز مراحل سے گزارا جاتا ہے جو ان کی عمر اور نشوونما کے لیے زہر قاتل ہیں، جس کے ان پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خواتین کو بھی صحت اور پرائیویسی کے حوالے سے بدترین حالات کا سامنا ہے اور انہیں کم سے کم طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

طبی غفلت اور بھوکا رکھنے کے حوالے سے کیا معلومات ہیں؟

قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر صحت کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ بہت سے اسیران کو درست تشخیص اور بر وقت علاج کی سہولت میسر نہیں، جس کی وجہ سے معمولی بیماریاں بھی جان لیوا بن رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خوراک کی انتہائی کمی اور ناقص معیار نے اسیران کی قوتِ مدافعت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے وہ بیماریوں کے خلاف لڑنے کے قابل نہیں رہے۔

اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کی حقیقت کیا ہے؟

اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری محض ایک قانونی متن نہیں بلکہ یہ قابض اسرائیل کے اس بھیانک ارادے کا اظہار ہے کہ اب وہ اسیران کی زندگیوں کو سرکاری طور پر نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسے خطرناک مرحلے کا آغاز ہے جہاں اسیران کو صرف تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ انہیں براہ راست قتل کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

اسیران کے معاملے پر عالمی برادری کے موقف کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

عالمی موقف تاحال ان سنگین حالات کے مطابق نہیں ہے۔ عالمی برادری کا رویہ محض رسمی بیانات اور کاغذوں تک محدود ہے، جس سے زمین پر کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آ رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے باوجود مؤثر محاسبے کے نظام کا نہ ہونا ان مظالم کو مزید شہ دے رہا ہے۔ عالمی خاموشی قابض دشمن کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی سفاکیت جاری رکھ سکتا ہے۔

حقوقِ انسانی کے ادارے ان مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

حقوقِ انسانی کے ادارے معلومات اکٹھا کرنے اور ان مظالم کو عالمی فورمز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم انہیں اسیران تک براہ راست رسائی نہ ہونے اور انسانی حقوق کے کام پر لگائی گئی پابندیوں جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کی کوششیں اس وقت تک بارآور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ عالمی برادری ان رپورٹس کو عملی کارروائی اور حقیقی محاسبے میں تبدیل کرنے کا ارادہ نہ کر لے۔

یومِ اسیر کے موقع پر آپ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

اس دن ہمارا پیغام یہی ہے کہ اب جیلوں کے اندر ہونے والے ان مظالم پر مزید خاموشی یا تاخیری حربے برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ اسیران کے تحفظ اور انہیں انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری کے لیے اسیران کا یہ مسئلہ عدل و انصاف اور انسانی حقوق کے دعوؤں کا حقیقی امتحان ہے، اور بحیثیت فلسطینی ہمارے لیے یہ اپنے نصب العین کی بقا کی جدوجہد ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan