مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے 14 عرب اور اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کو ہنگامی مراسلے ارسال کیے ہیں جن میں مسجد اقصی کو مسلسل 40 دنوں تک بند رکھنے اور پھر قابض اسرائیل کے یک طرفہ فیصلے سے اسے دوبارہ کھولنے کے نتائج پر سخت خبردار کیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے زور دے کر کہا کہ قابض اسرائیل مسجد اقصی میں قائم تاریخی حیثیت کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے کیونکہ اس نے اردنی اوقاف کے ان طے شدہ اختیارات پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے جو اس کی انتظامیہ اور تعمیر و مرمت کا خصوصی حق رکھتے ہیں اور اپنی پولیس کو وہاں کے سیاہ و سفید کا مالک بنا کر مسلط کر دیا ہے۔
فاؤنڈیشن نے اپنے مراسلوں میں جن پر اس کے چیئرمین شیخ حمید بن عبداللہ الاحمر کے دستخط ہیں اور جو سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین، سلطنت عمان، مصر، عراق، مراکش، الجزائر، تیونس، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزراء خارجہ کو بھیجے گئے ہیں، واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے علاقائی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مفروضہ امن و سلامتی کے بہانے مسجد اقصی پر مسلسل 40 دنوں تک مکمل تالا بندی مسلط رکھی۔
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بندش گذشتہ آٹھ صدیوں کے دوران طویل ترین ہے جس کے دوران رمضان المبارک کے 20 دنوں میں نماز، تراویح اور اعتکاف پر پابندی لگائی گئی، نماز عید کو منسوخ کیا گیا اور مسلسل پانچ جمعوں کی ادائیگی سے روکا گیا، جو کہ سنہ 1967ء میں مقبوضہ بیت المقدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی ایک ایسی سنگین مثال ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل نے ان اقدامات کے ذریعے مسجد کو کھولنے اور بند کرنے کا اختیار اردن کے زیر انتظام اسلامی اوقاف کے ہاتھ سے چھین لیا ہے، تاکہ اس کے کردار کو مسلسل پسماندہ کر کے اسے ایک حقیقی انتظامیہ کے بجائے محض ایک ایسی اکائی میں بدل دیا جائے جو صرف اس وقت اسلامی موجودگی کا انتظام کرے جب قابض اسرائیل اس کی اجازت دے۔
فاؤنڈیشن نے اسرائیلی غاصبانہ قبضے کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ اس کا آغاز سنہ 2002ء میں سیاحوں کے داخلے کا اختیار چھیننے سے ہوا، سنہ 2003ء میں جبری دراندازیوں کا آغاز کیا گیا، پھر سنہ 2008ء میں ان دراندازیوں کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے گئے اور سنہ 2011ء سے مسجد کی تعمیر و مرمت کے کاموں پر سخت پہرے بٹھا دیے گئے۔ یہاں تک کہ سنہ 2019ء میں مسجد اقصی کی دیواروں کی مرمت کا اختیار بھی چھین لیا گیا، سنہ 2022ء میں وہاں علانیہ طور پر توراتی رسومات مسلط کی گئیں اور بالاخر سنہ 2025ء کے آغاز تک مسجد کو آباد کاروں کے رقص و سرور کے میدان میں تبدیل کر دیا گیا۔
فاؤنڈیشن نے اس تناظر میں واضح کیا کہ مسجد اقصی کی شناخت کا تحفظ اب تنہا مملکتِ اردن کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔ فاؤنڈیشن نے افسوس کے ساتھ اس حقیقت کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل نے اس تاریخی حیثیت کو پامال کر دیا ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت مسجد اقصی کو حاصل تھی اور اب وہاں قابض اسرائیل کی مرضی کا ایک نیا ڈھانچہ مسلط ہے جس میں تاریخی حیثیت کے صرف محدود اثرات باقی رہ گئے ہیں۔ یہ صورتحال تمام عرب اور اسلامی ممالک پر انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک قومی، دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔
مراسلے کے اختتام پر کہا گیا کہ قابض اسرائیل اس بڑھتی ہوئی جارحیت کے ذریعے ایک کھلی مذہبی جنگ لڑ رہا ہے، جس کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کی سطح پر انفرادی اور اجتماعی طور پر فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام مسجد اقصی کے لیے ایک ایسی عرب و اسلامی حفاظتی ڈھال بننا چاہیے جو اس کی اسلامی شناخت کی حفاظت کرے اور وہاں اس تاریخی حیثیت کو دوبارہ بحال کرے جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ مسجد اپنے تمام تر امور کے ساتھ مکمل طور پر اسلامی انتظامیہ کے زیر اثر رہے جیسا کہ وہ قبضے سے پہلے تھی۔
