غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یوم اسیر فلسطین کی مناسبت سے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی صحافیوں کی رہائی کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی حلقوں کی جانب سے مطالبات میں تیزی آگئی ہے۔ یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب اکتوبر سنہ 2023ء میں شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے میڈیا نمائندوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی، گرفتاریوں کی مہم اور بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سنگین انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں ” فلسطینی صحافی بلاک” نے قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں تاحال قید 45 صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بلاک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا اور انہیں قید کرنا ایک “منظم جرم” ہے جس کا مقصد سچائی کا گلا گھونٹنا اور آزادئ اظہار کی قوت کو توڑنا ہے۔
بلاک نے جمعرات کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ قابض افواج نے اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک 220 سے زائد مرد اور خواتین صحافیوں کو گرفتار کیا ہے تاکہ فلسطینی بیانیے کو دبایا جا سکے اور میدان جنگ کے حقائق کو دنیا تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
بلاک نے مزید کہا کہ صحافیوں کی مسلسل حراست صحافتی آزادیوں اور عوام کے معلومات تک رسائی کے حق پر براہ راست حملہ ہے، جو میڈیا سے وابستہ افراد کو واقعات کے گواہ ہونے کی پاداش میں نشانہ بنانے کی دانستہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور صحافتی یونینوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے اور ان کے خلاف ہونے والی متواتر خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں، کیونکہ “آزاد لفظ کو کبھی زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی”۔
ایک الگ بیان میں “فلسطینی میڈیا فورم” نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوم اسیر فلسطین، جسے فلسطینی ہر سال 17 اپریل کو مناتے ہیں، اس سال اسیران اور بالخصوص صحافیوں کے خلاف خلاف ورزیوں میں غیر معمولی اضافے کے سائے میں آیا ہے۔ فورم نے وضاحت کی کہ جنگ کے آغاز سے اب تک لگ بھگ 49 صحافی بدستور قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، جو سیکڑوں میڈیا کارکنوں کی گرفتاری کی اس بڑھتی ہوئی پالیسی کا حصہ ہے۔
فورم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ زیر حراست صحافیوں کو جیلوں کے اندر سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، جن میں تشدد، بدسلوکی اور طبی نگہداشت و قانونی نمائندگی سمیت بنیادی حقوق سے محرومی شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات ان کے عزم کو توڑنے اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
بیان میں اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ اپریل سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی تعداد 9600 سے تجاوز کر چکی ہے، جو انتہائی سنگین انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ فورم کا ماننا ہے کہ بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست سمیت یہ من مانی گرفتاریاں، رائے اور اظہار رائے کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی اور سچائی کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔
فورم نے تمام اسیر صحافیوں کی بغیر کسی شرط کے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور اقوام متحدہ و دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں اور ان کے خلاف ہونے والے مظالم کی آزادانہ تحقیقات شروع کریں۔ فورم نے عزم ظاہر کیا کہ صحافیوں کو نشانہ بنا کر نہ تو سچائی کو غائب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فلسطینی میڈیا کے ارادوں کو متزلزل کیا جا سکتا ہے۔
اہل فلسطین ہر سال 17 اپریل کو یوم اسیر مناتے ہیں تاکہ اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں اسیران کے مقدمے کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب گرفتاریوں کی صہیونی پالیسیوں، خاص طور پر صحافیوں کے خلاف، عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ صحافی وہ طبقہ ہے جو صہیونی مظالم کی دستاویز بندی کر کے انہیں عالمی رائے عامہ تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
