غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹوم فلیچر نے غزہ کی پٹی میں مسلسل بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مالی امداد میں اضافہ کرے اور غزہ میں انسانی امداد کی بڑی مقدار داخل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔
یہ انتباہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ یہ اجلاس دس غیر مستقل رکن ممالک کی درخواست پر غزہ کی انسانی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
فلیچر نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں بھوک کا شکار خاندانوں کی شرح 92 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد ہو گئی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے باسی اب بھی زندگی کے بنیادی لوازمات سے محروم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں شہری اب بھی روزانہ فضائی حملوں، گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہو رہے ہیں، حالانکہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد براہِ راست تصادم کی شدت میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 250 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا مسلسل شکار بننا اس المناک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا غزہ کے شہریوں کو ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اب بھی انسانی امدادی کارکنوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران تقریباً 600 امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جو اسی عرصے کے دوران عالمی سطح پر ہلاک ہونے والے کل انسانی امدادی کارکنوں کی نصف سے زیادہ تعداد ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ بڑی تعداد میں فلسطینی مسلسل سکڑتے ہوئے تنگ علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، جہاں وہ انتہائی مشکل حالات اور نقل و حرکت پر مسلسل پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ کے 70 فیصد رہائشیوں کو مناسب پناہ گاہوں کی ضرورت ہے، جبکہ بنیادی خدمات تباہی کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی ہسپتال مکمل صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہا ہے۔
انہوں نے پانی کے بگڑتے ہوئے بحران کے بارے میں بھی خبردار کیا اور بتایا کہ یونیسیف کے اندازوں کے مطابق 11 لاکھ سے زائد بچے روزانہ پینے کے صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
فلیچر نے نکاسی آب کی ابتر صورتحال اور صحت کے خطرات میں اضافے کا ذکر کیا، جس میں چوہوں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ ان خطرناک اشاروں کو سنجیدگی سے لیں۔
انہوں نے بجلی کے جنریٹرز، انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کی شدید قلت کی طرف بھی توجہ دلائی، جو شہریوں کی تکالیف میں اضافہ کر رہا ہے اور انہیں مہنگے اور محدود حل پر انحصار کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جیسے کہ پانی کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا اور پیچیدہ حالات میں طبی انخلاء کرنا۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اپنی بریفنگ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی حالات کو بہتر بنانے، اور بغیر کسی رکاوٹ کے شہریوں تک امداد اور بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
