غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے غزہ کی پٹی میں اعلان کردہ جنگ بندی کو فلسطینی بچوں کے لیے ایک ’قاتل سراب‘ قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 265 بچے شہید ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے اردن کے دارالحکومت عمان سے جاری اپنے بیان میں، جسے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیش کیا گیا کہا کہ دنیا کو مہینوں سے غزہ میں جنگ بندی کا یقین دلایا جا رہا ہے، مگر یہ جنگ بندی فلسطینی بچوں کے لیے ایک ’ظالمانہ اور قاتل سراب‘ ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی میں 265 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس تعداد کو ’افسوسناک‘ اور ’بے معنی‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ یہ اعداد و شمار جنگ بندی کے دعووں کی ساکھ کو زمین بوس کر رہے ہیں۔
ایلڈر نے وضاحت کی کہ اس عرصے کے دوران شہید ہونے والے بچوں کی اکثریت قابض اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا نشانہ بنی، جبکہ ایک محدود تعداد ناکارہ گولہ بارود یا دیگر حادثات کی نذر ہوئی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود زیادہ تر متاثرین فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرونز کی کارروائیوں میں لقمہ اجل بنے۔
یونیسیف کے ترجمان نے تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی بدستور مسلسل فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت صحت غزہ کے اعداد و شمار کے مطابق، جون سنہ 2026ء کے وسط تک جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک کل شہداء کی تعداد 992 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ادارے نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسی عرصے کے دوران 400 سے زائد لڑکے اور لڑکیاں زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی شدید زخمی ہیں جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
ایلڈر نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو معمول کی بات ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں شیر خوار بچوں کی اموات کی جو سطح دیکھی جا رہی ہے، اگر یہ دنیا کے کسی اور حصے میں ہوتی تو عالمی سطح پر شدید اشتعال پیدا کرتی۔
یونیسیف نے متنبہ کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں شدید بگاڑ کے باعث غزہ میں سیکڑوں بچوں کو علاج اور خصوصی طبی دیکھ بھال کے لیے فوری انخلا کی ضرورت ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ادویات اور بنیادی طبی سامان کی آمد پر عائد پابندیاں زخمی بچوں کی تکالیف میں اضافہ کر رہی ہیں اور انفیکشن کے خطرات اور سنگین صحت پیچیدگیوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض زخمیوں کو اعضاء کٹوانے جیسے مشکل مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
ایلڈر نے اپنے بیان کا اختتام اس بات پر کیا کہ غزہ میں بچوں کی مسلسل ہلاکتیں دستیاب آپشنز کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس المیے کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری سیاسی عزم کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔
