غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جب جب غزہ کی پٹی کے طویل محاصرے اور اس کے جاں گسل انسانی اثرات کا نوحہ لکھا جائے گا تو اس کا مطلب محض راستوں کی بندش یا سامانِ زیست کی قلت ہرگز نہیں ہوگا۔ درحقیقت ہم قابض اسرائیل کی اس منظم اور سفاکانہ پالیسی کے روبرو ہیں جس نے بیس لاکھ سے زائد معصوم فلسطینیوں کی زندگی کو پانی کی ایک ایک بوند، دوا کی ایک رمق، بجلی کی ایک جھلک اور روٹی کے ایک لقمے کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں جھونک دیا ہے۔ غزہ کی پٹی گذشتہ دو دہائیوں سے ایک مستقل صہیونی جبر کی گرفت میں ہے جہاں زندگی کے ہر نقش کو نہایت بے رحمی اور دانستہ طور پر مسخ کیا جا رہا ہے۔ اس ظلم کا مقصد صرف یہ ہےکہ فلسطینی اپنی سرزمین سے نکل جائیں اور ان کے وطن کے چپے چپے پر صہیونی راج کریں۔
طویل برسوں سے غزہ کی پٹی ان مسلسل صہیونی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے جنہوں نے نقل و حمل، سفر، علاج، تعمیرِ نو اور تجارت کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔ ہر نئی لہر اور ہر نئی جارحیت کے ساتھ انسانی المیے کی شدت دوچند ہوتی چلی گئی کیونکہ یہ محاصرہ نہ تو بمباری کے تھمنے سے شروع ہوتا ہے اور نہ ہی سیز فائر کے اعلان پر ختم ہوتا ہے۔ یہی وہ اذیت ناک عمل ہے جو زخموں کے اندمال کو ناممکن بنا دیتا ہے اور عارضی چوٹ کو ایک مستقل رستے ہوئے ناسور میں تبدیل کر دیتا ہے۔ لٰہٰذا غزہ کی پٹی کی موجودہ صورتحال کو سمجھے بغیر قابض اسرائیل کے اس محاصرے کو نہیں سمجھا جا سکتا جو محض ایک سکیورٹی اقدام نہیں جیسا کہ غاصب ریاست دنیا کو باور کرانے کی ناکام کوشش کرتی ہے بلکہ یہ درحقیقت ایک پوری قوم کو دی جانے والی بدترین اجتماعی سزا ہے۔
روزمرہ زندگی پر محاصرے کے خونچکاں اثرات
اس محاصرے کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسانوں کو اپنی تمام تر قوتِ ارادی محض بنیادی ضرورتوں کی جستجو میں ضائع کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ فلسطینی خاندان جسے اپنے بچوں کی تعلیم، روشن مستقبل کی منصوبہ بندی یا معاشی استحکام کی فکر ہونی چاہیے تھی وہ آج ان تلخ سوالات کے زندان میں قید ہے کہ کیا پینے کو صاف پانی میسر ہوگا؟ کیا بیمار کو شفا کے لیے دوا مل پائے گی؟ کیا نان بائی کی بھٹی روشن ہوگی؟ اور کیا یہ بکھرا ہوا خاندان اپنے مسمار شدہ گھر کی دیواریں دوبارہ کھڑی کر پائے گا؟ بلکہ اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ کیا ان ملبوں کے ڈھیر پر تاننے کے لیے کوئی خیمہ بھی نصیب ہوگا!
اس انسانی استحصال کو محض خشک اعداد و شمار کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ اگرچہ غربت، بے روزگاری اور فاقہ کشی کے اشاریے دل دہلا دینے والے ہیں مگر اس کا گہرا اور نفسیاتی اثر زندگی پر مکمل اختیار چھن جانے کے اس مستقل احساس میں چھپا ہے جو ہر لمحہ پیچھا کرتا ہے۔ یہ محاصرہ معصوم انسانوں پر ایک طویل اور صبر آزما انتظار مسلط کر دیتا ہے یعنی امدادی ٹرکوں کی آمد کا انتظار، بجلی گھر کے لیے ایندھن کا انتظار، علاج کے لیے سرحد پار جانے کے اذن کا انتظار یا تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے دبے مستقبل کی تعمیر کے لیے اینٹ اور گارے کا انتظار۔ وقت کی طوالت کے ساتھ یہ انتظار بذاتِ خود تذلیل اور غلامی کا ایک ہتھیار بن چکا ہے۔
معاشرے کے کمزور اور نحیف طبقات اس سفاکیت کی پہلی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ بچے ایک ایسے مسموم ماحول میں پل رہے ہیں جہاں صرف خوف اور محرومی کے سائے لہراتے ہیں۔ بزرگ اپنی عمر کے آخری ایام ایک ایسے نظامِ صحت میں سسکتے ہوئے گزار رہے ہیں جو خود زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے جبکہ معذور افراد کے لیے زندگی کا ہر قدم ایک کٹھن آزمائش بن چکا ہے۔ ان حالات میں فلسطینی خواتین اس المیے کا سب سے بڑا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں جو قلتِ خوراک کے دور میں گھر چلانے سے لے کر نامساعد حالات میں زخمیوں اور مریضوں کی تیمارداری تک ہر محاذ پر سینہ سپر ہیں۔
محاصرے کی زد میں سسکتا نظامِ صحت
غزہ کی پٹی میں صحت کا شعبہ صرف حالیہ جنگ کی وجہ سے ہی نڈھال نہیں ہے بلکہ یہ اس مسلسل کٹاؤ کا نتیجہ ہے جو قابض اسرائیل کے محاصرے نے پیدا کیا ہے۔ جہاں غاصب صہیونی ریاست طبی رسد کو جان بوجھ کر روکتی ہے، مریضوں اور مسیحاؤں کی نقل و حرکت پر پہرے بٹھاتی ہے بلکہ طبی عملے کو تو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے۔
ہسپتالوں کو محض بستروں اور گنتی کی چند ادویات کی احتیاج نہیں بلکہ انہیں قابض اسرائیل کی بمباری کے بعد ازسرِ نو تعمیر، بجلی کی مسلسل فراہمی، صاف پانی اور طبی آلات کے اسپیئر پارٹس کی ضرورت ہوتی ہے جو سنگین پابندیوں کی وجہ سے کبھی وقت پر نہیں پہنچ پاتے۔ غزہ کی پٹی میں علاج معالجہ ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کی تعبیر کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ دائمی امراض میں مبتلا انسانوں کے لیے مرض سے زیادہ وہ بے بس ماحول جان لیوا ثابت ہوتا ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہے۔
محاصرہ نایابی اور قلت کا وہ چکر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو غزہ کی پٹی کے طبی بحران کو کسی بھی عارضی بحران سے کہیں زیادہ سنگین اور جان لیوا بنا دیتی ہے۔ ہم ایک ایسے منظم استحصال کے شاہد ہیں جہاں زخمیوں کی زندگی کے چراغ وسائل کی کمی کی وجہ سے گل ہو رہے ہیں اور طبی عملہ اپنے فرائض کی ادائیگی اور وسائل کی نایابی کے درمیان ایک دردناک اذیت کا شکار ہے۔
بھوک اور غذائی قلت: نسل کشی کا سیاسی ہتھیار
جب خوراک کی فراہمی اور قوتِ خرید کو دانستہ طور پر تباہ کر دیا جائے تو بھوک محض ایک اتفاقی نتیجہ نہیں رہتی۔ غزہ کی پٹی میں غذائی عدم تحفظ اس منظم تنگ دستی کی پالیسی کا شاخسانہ ہے جو قابض اسرائیل نے یہاں مسلط کر رکھی ہے۔ سمندر میں مچھیرے کے جال خالی ہیں، زمین پر کسان کی جان خطرے میں ہے، کاروبار زندگی ٹھپ ہے اور عالمی امداد بھی ان صہیونی پابندیوں کے رحم و کرم پر ہے جو انسانیت کے کم از کم معیار سے بھی خالی ہیں۔
اس صورتحال نے خوراک کی مقدار سے زیادہ اس کے معیار کو متاثر کیا ہے۔ فلسطینی خاندان فاقوں پر مجبور ہیں یا پھر ایسی غذا پر گزارہ کر رہے ہیں جو جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ہے۔ بچے، حاملہ خواتین اور بیمار اس خاموش نسل کشی کا سب سے بڑا ہدف ہیں کیونکہ غذائی قلت فوری طور پر نظر نہ بھی آئے مگر یہ نشوونما، مدافعت اور عوامی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
تعلیم: بمباری اور محاصرے کی دوری چکی
غزہ کی پٹی میں تعلیم کی بقا کا ذکر محاصرے کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ طالب علم جو بجلی کے بغیر، ٹوٹے ہوئے سکولوں میں اور وسائل کی شدید قلت کے ساتھ پڑھنے پر مجبور تھا، وہ گذشتہ دو برسوں سے جاری نسل کشی کی اس ہولناک جنگ کے بعد اب مکمل تعلیمی انقطاع کا شکار ہے۔ قابض اسرائیل نے سکولوں اور تعلیمی اداروں کو دانستہ طور پر اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
جامعات نے بھی اس جبر کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ محاصرے کے طویل برسوں میں سائنسی آلات اور لیبارٹریوں کی رسد کو روکا گیا اور اب اس نسل کشی کی جنگ میں کوئی بھی یونیورسٹی صہیونی بمباری سے محفوظ نہیں رہی۔ محاصرہ اور نسل کشی مل کر فلسطینی مستقبل کی شمع کو گل کرنے کے درپے ہیں۔ غاصب ریاست کا مقصد فلسطینی قوم کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیل کر ان کی علمی اور سماجی اساس کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ اپنے تسلط کو دوام دے سکے۔
طلبہ کے اذہان پر نقش ہونے والے نفسیاتی زخموں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک پوری نسل جنگ، ہجرت اور محرومی کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ تحفظ کا احساس اور روشن مستقبل پر یقین جو تعلیم کی پہلی شرط ہے، اس محاصرے نے چھین لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر سکول اور ہر یونیورسٹی محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ مقاومت اور صمود کا ایک مورچہ بن چکی ہے۔
ملبہ بنی بستیاں: تعمیرِ نو کا ادھورا خواب
محاصرے کا سب سے مکروہ چہرہ رہائشی مکانات کی مسماری میں نظر آتا ہے۔ جب گھر بمباری سے زمین بوس ہوتے ہیں تو المیہ صرف در و دیوار کا گرنا نہیں ہوتا بلکہ تعمیراتی مواد پر لگی وہ پابندی ہے جو دوبارہ چھت میسر نہیں ہونے دیتی۔ ملبے کے یہ ڈھیر اب ایک مستقل سیاسی منظر نامہ بن چکے ہیں اور دربدر فلسطینی خاندان محض بمباری کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ بحالی کے رستے میں حائل صہیونی رکاوٹوں کی وجہ سے بھی بار بار اجڑتے ہیں۔ آج غزہ کی پٹی کا نوے فیصد سے زائد حصہ ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے جو عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
بجلی، پانی اور نکاسی آب کی تباہی کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ زندگی کی ان بنیادوں کا خاتمہ ہے جنہیں قابض اسرائیل نے دانستہ طور پر مٹایا ہے۔ محاصرہ ان شعبوں کی بحالی کو اس قدر سست اور پیچیدہ بنا دیتا ہے کہ ہر کوشش نئی جارحیت کی نذر ہو جاتی ہے۔ یوں غزہ کی پٹی تباہی اور ادھوری بحالی کے ایک ایسے لامتناہی چکر میں جکڑی ہوئی ہے جہاں انسانی وقار ہر لمحہ مجروح ہوتا ہے۔
مفلوج معیشت اور نا امیدی کا پھیلتا ہوا صحرا
اس انسانی تباہی کو معیشت کے گلا گھونٹنے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب غاصب ریاست تجارتی آزادی سلب کر لیتی ہے اور پیداواری ذرائع کو ملیا میٹ کر دیا جاتا ہے تو پورا معاشرہ اپاہج ہو کر رہ جاتا ہے۔ غزہ کی پٹی میں بے روزگاری اب محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی وباء ہے جس نے ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نوجوانوں کا مستقبل اندھیروں میں ڈوب چکا ہے اور فلسطینی خاندان محض امداد کے چند لقموں پر جینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔
عام حالات میں کوئی بھی معاشرہ محنت اور سرمایہ کاری سے سنبھل جاتا ہے مگر یہاں ہر ہنر مند، ہر تاجر اور ہر ذہین نوجوان ان دیواروں سے ٹکرا کر رہ جاتا ہے جو محاصرے نے کھڑی کر دی ہیں۔ یہاں امداد پر انحصار کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک جبری صورتحال ہے جس کا مقصد فلسطینی قوم کی خودداری کو چیلنج کرنا ہے۔
یہاں یہ سچائی پوری قوت سے بیان ہونی چاہیے کہ امدادی پیکٹ بھوک تو مٹا سکتے ہیں مگر وہ اس بحران کی جڑ کو ختم نہیں کر سکتے۔ اگر سیاسی احتساب نہ کیا گیا تو یہ امدادی سرگرمیاں بحران کے حل کے بجائے اسے مستقل طور پر چلانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ غزہ کی پٹی کو محض خیرات کی ضرورت نہیں بلکہ اس ظالمانہ محاصرے کی بیڑیاں توڑنے کی ضرورت ہے جو اس پے در پے ہونے والی تباہی کا اصل سبب ہے۔
قانونی اور اخلاقی پکار
قابض اسرائیل کا یہ طویل محاصرہ کوئی محض انتظامی معاملہ نہیں ہے۔ جب ایک پوری آبادی سے خوراک، دوا اور سانس لینے کا حق چھین لیا جائے تو اسے عالمی قانون کی زبان میں صرف اور صرف اجتماعی سزا ہی کہا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی کا لبادہ اوڑھ کر اس سفاکیت کو چھپانے کی ہر کوشش اس سچائی کے سامنے ہیچ ہے کہ معصوم شہری کبھی بھی جنگ کا ہدف نہیں ہو سکتے اور نہ ہی بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے۔
اس ظلم کو اس کے صحیح نام سے پکارنا محض لفظی انتخاب نہیں بلکہ حق و باطل کی اس جنگ کا حصہ ہے۔ اگر اس محاصرے کو محض ایک تنازعہ یا سکیورٹی انتظام کے طور پر دیکھا جائے گا تو فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدت کم ہو کر رہ جائے گی۔ لہٰذا فلسطینی بیانیے کی حفاظت درحقیقت انسانیت اور سچائی کی حفاظت ہے۔
محاصرے کا خاتمہ: واحد رستہ
امدادی سرگرمیاں چاہے کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہوں، وہ محاصرے کے سائے میں ایک مستحکم زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔ جب تک زندگی کی نبض پر اس غاصب طاقت کا ہاتھ رہے گا جو اس قوم کو مٹانا چاہتی ہے، تب تک کوئی بھی بحالی مستقل نہیں ہو سکتی۔ غزہ کی پٹی کو درپیش اذیتوں کے انتظام کی نہیں بلکہ جینے کے اس حق کی ضرورت ہے جو کسی بھی انسان کے لیے بدہی اور بنیادی حق ہوتا ہے۔
جنگ بندی یا تعمیرِ نو کی کوئی بھی بات محاصرے کے خاتمے کے بغیر بے معنی ہے۔ نقل و حرکت، تعلیم، علاج اور کام کا حق کوئی ثانوی مطالبہ نہیں بلکہ وہ بنیادی حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس پورے منظر نامے میں فلسطینی انسان کو اس کے نام، اس کے وقار اور اس کے ناقابلِ تسخیر حقِ مقاومت کے ساتھ مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ محاصرہ لوگوں کو خاموش اور محتاج بنانا چاہتا ہے مگر غزہ کی پٹی بمباری، بھوک اور تھکن کے باوجود آج بھی صمود اور استقامت کا وہ استعارہ ہے جو تسلیم و رضا سے انکاری ہے۔ مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا ہر قدم اس پختہ یقین سے شروع ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے وقار کی پامالی اب مزید قبول نہیں کی جائے گی۔ محاصرہ توڑنا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ اس انصاف کا تقاضا ہے جسے اب مزید پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔
