غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی افواج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جس کے تحت مختلف علاقوں میں پناہ گزین مراکز اور بے گھر فلسطینیوں کے اجتماعات کو توپ خانے اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں واقع جبالیا البلد میں قابض اسرائیل کے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شہری جام شہادت نوش کر گیا جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ جبالیا البلد میں قدیم غزہ اسٹریٹ پر اپنے تباہ شدہ گھر کا ملبہ ہٹانے کی کوشش کرنے والے شہریوں پر قابض دشمن نے بمباری کی، جس سے ایک فلسطینی شہید اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔
غزہ کی پٹی میں بدھ کے روز وقفے وقفے سے توپ خانے سے گولہ باری اور شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس نے پٹی کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جو کہ سیز فائر معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کا واضح ثبوت ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ بمباری میں غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ التفاح کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خان یونس کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں سے شدید فائرنگ کی گئی۔ اسی دوران شمالی پٹی کے قصبے بیت لاہیا میں العطاطرہ چوک کے گردونواح کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود پناہ گزینوں میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 780 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2193 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملبے کے نیچے سے سینکڑوں متاثرین کی لاشیں نکالنے کا عمل بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جہاں تک سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی نسل کشی کی اس جنگ کے مجموعی نقصانات کا تعلق ہے، تو شہداء کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور 172 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ہولناک جانی نقصان ان فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے جو اب بھی غزہ کی پٹی کے رہائشی علاقوں اور باقی ماندہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
