Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صہیونی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے حالات پر عالمی تشویش

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی خواتین اسیرات کی تعداد اپریل سنہ 2026ء تک بڑھ کر 90 ہو گئی ہے، جو غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ وحشیانہ جارحیت کے آغاز سے خواتین کی گرفتاریوں میں آنے والی ہولناک تیزی اور غاصب دشمن کی سفاکیت کا واضح ثبوت ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین “معطی” نے اس تشویشناک صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین حقائق جاری کیے ہیں۔

مرکز نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ ان اسیرات کی اکثریت “الدامون” جیل کی سلاخوں کے پیچھے انسانیت سوز حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ان مظلوم خواتین میں دو معصوم بچیاں اور ایک ایسی حاملہ خاتون بھی شامل ہیں جو اپنے حمل کے تیسرے مہینے میں ہیں، جو ان عقوبت خانوں کے اندر موجود سنگین اور حساس انسانی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جہاں حاملہ خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان اسیرات میں 25 ایسی خواتین شامل ہیں جنہیں کسی بھی الزام یا مقدمے کے بغیر نام نہاد “انتظامی حراست” کے ظالمانہ قانون کے تحت قید کیا گیا ہے۔ ان میں 3 جرات مند صحافی خواتین اور کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا 2 اسیرات بھی شامل ہیں جنہیں طبی امداد سے محروم رکھ کر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ 2 خواتین ایسی ہیں جو موجودہ جنگ کے آغاز سے بھی پہلے سے ان اندھی کوٹھڑیوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہیں۔

اسی تناظر میں مرکز “معطی” نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک خواتین کی گرفتاریوں کی مجموعی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جن کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے ہے۔ یہ اعداد و شمار غزہ کی پٹی سے جبری طور پر لاپتہ کی جانے والی ان فلسطینی خواتین کے علاوہ ہیں جن کی تعداد اور حالات کے بارے میں قابض اسرائیل کی جانب سے سخت پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔

گرفتاریوں میں یہ ہولناک اضافہ اسیران اور اسیرات کے حقوق کی مسلسل پامالی اور صہیونی ریاست کی منظم نسل کشی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے ان ظالمانہ اور غیر قانونی گرفتاریوں کو فوری طور پر روکنے اور اسیروں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan