غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں مزاحمتی سکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز قابض اسرائیل کے لیے مخبری کرنے والے ایک شخص کے اعترافی بیانات جاری کیے ہیں۔ ان اعترافات میں اس کی بھرتی اور جنگ کے دوران انجام دی گئی سکیورٹی اور میدانی کارروائیوں کی تفصیلات شامل ہیں، جس کی وجہ سے، سکیورٹی فورسز کے مطابق، کئی فلسطینی شہریوں اور مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا گیا اور گھروں و شہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔
جاری کردہ اعترافات کے مطابق اس شخص کا قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس سے تعلق نومبر سنہ دو ہزار تئیسء میں شروع ہوا، جب اس نے ’فلسطینی سکیورٹی ادارہ‘ نامی ایک اکاؤنٹ سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا۔
اس شخص نے وضاحت کی کہ اکاؤنٹ آپریٹر نے ابتدا میں سماجی تعلقات قائم کر کے اسے پھنسایا، بعد ازاں مالی امداد کے بدلے میں لوگوں اور تنصیبات کے بارے میں معلومات مانگنا شروع کیں اور آخر کار اپنی شناخت قابض انٹیلی جنس کے افسر کے طور پر ظاہر کی۔
مزاحمتی سکیورٹی فورسز کے مطابق اس شخص کو جو کام سونپے گئے تھے ان میں مقامات اور افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنا، نقاطِ احداثیات ریکارڈ کرنا، خفیہ تصویر کشی کرنا، آپریٹرز تک معلومات پہنچانا اور خفیہ مواصلاتی ذرائع کا استعمال شامل تھا۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس نے غزہ کی پٹی میں امریکی امداد کی تقسیم کے مقامات کو اس شخص سے ملاقاتوں کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جہاں اسے قابض انٹیلی جنس کے افسران سے ملوایا گیا اور معلومات جمع کرنے، مقامات کی نشاندہی اور خفیہ رابطوں کے طریقوں پر تربیت دی گئی۔
اعترافات کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ اس شخص نے کہا کہ اسے کمانڈر عزالدین الحداد کے ہدف بننے والے مقام کی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا اور اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہدف والے علاقے میں کسی بھی نقل و حرکت کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس افسر کو مطلع کرے۔
اس نے بتایا کہ اس نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو اس گاڑی کے بارے میں اطلاع دی جس میں الحداد سوار تھے، جس کی وجہ سے قابض فورسز اس گاڑی پر ایک اور فضائی حملہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں، جس کے نتیجے میں کمانڈر اور ان کے خاندان کے کئی افراد شہید ہو گئے۔
اعترافات میں دیگر کاموں کا بھی ذکر ہے جس سے قابض فوج کے مطابق شہریوں کو نشانہ بنانے اور مزاحمت کاروں کے خلاف گھات لگانے میں مدد ملی۔ اس نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات اس نے شہریوں سے حاصل کردہ معلومات یا اپنے ذاتی قیاس آرائیوں کو بنیاد بنایا۔
اس شخص نے نشاندہی کی کہ بعد میں اس نے کچھ کاموں سے اس ڈر سے انکار کر دیا کہ کہیں اس کی حقیقت کھل نہ جائے، کیونکہ اس کی نقل و حرکت اور بار بار سوالات نے شہریوں میں شکوک پیدا کر دیے تھے، خاص طور پر جب وہ بمباری کا شکار علاقوں اور اہم مقامات کے قریب پایا جاتا تھا۔
اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ذاتی انتقام کی خاطر اس نے شہریوں کے بارے میں جھوٹی معلومات فراہم کیں اور بغیر تصدیق کیے محض اندازوں کی بنیاد پر قابض اسرائیل کو معلومات دیں۔
ایک واقعے میں اس شخص نے بتایا کہ اس نے تین نوجوانوں کے بارے میں قابض اسرائیل کو اطلاع دی اور ان پر مزاحمت سے تعلق کا الزام صرف اس لیے لگایا کیونکہ ان کے پاس قرآن مجید تھے، جس کے بعد قابض اسرائیل نے انہیں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا، جس سے ان میں سے دو شہید ہو گئے۔
مزاحمتی سکیورٹی فورسز کے مطابق جاری کردہ یہ اعترافات ان طریقوں پر روشنی ڈالتے ہیں جو قابض انٹیلی جنس سوشل میڈیا اور مالی امداد کے ذریعے ایجنٹوں کو بھرتی کرنے اور ورغلانے کے لیے استعمال کرتی ہے، تاکہ جنگ کے دوران معلومات جمع کرنے، مقامات اور لوگوں کی نشاندہی کے لیے انہیں استعمال کیا جا سکے۔
