دمشق – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شامی صدر احمد الشرع نے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر غاصب صہیونی ریاست کے قبضے کو قطعی طور پر باطل قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دمشق صرف اس صورت میں مذاکرات کے لیے تیار ہے جب قابض اسرائیل سنہ 1974ء کے طے شدہ انخلاء کے لائن تک پیچھے ہٹنے کا سکیورٹی معاہدہ کرے۔
یہ اہم بیان انہوں نے ترکیہ میں منعقدہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیٹک فورم کے ایک مکالماتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دیا، جس کا عنوان “مستقبل کی منصوبہ بندی میں غیر یقینی حالات سے نمٹنا” رکھا گیا تھا۔
احمد الشرع کا کہنا تھا کہ “مقبوضہ شامی گولان پر قابض اسرائیل کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا مکمل طور پر باطل اور شامی عوام کے حقوق کے منافی ہے”۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ریاست اپنے عوام کی مرضی کے بغیر اپنی سرزمین کا ایک حصہ بھی دشمن کے حوالے نہیں کر سکتی۔
شامی صدر نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ مقبوضہ گولان شام کی وہ سرزمین ہے جس پر قابض اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، اور شام ایک ایسے نئے سکیورٹی معاہدے کا خواہاں ہے جو سنہ 1974ء کی لائن تک قابض اسرائیل کے مکمل انخلاء کو یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دمشق خطے میں استحکام لانے، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے اور تنازعات سے دوری کی پالیسی پر گامزن ہے۔ احمد الشرع کے مطابق آج خطہ جن کٹھن حالات سے گزر رہا ہے ان کے لیے غیر معمولی حل کی ضرورت ہے، اور شام اپنے عوام کی استقامت اور علاقائی دوست ممالک کے تعاون سے ان چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
شامی صدر نے واضح کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں، تاہم شام کسی بھی ریاست کے خلاف کسی دوسرے دھڑے کا حصہ بننے سے گریز کر رہا ہے۔ انہوں نے شام کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دمشق کے امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور خطے کے ممالک کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں۔
ایک مختلف سیاسی نقطہ نظر
دوسری جانب شام کے لیے خصوصی امریکی ایلچی تھامس باراک نے جمعہ کو انکشاف کیا کہ قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کسی سرحد یا لائن کی پرواہ نہیں کرتے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دمشق نے موجودہ تنازع میں شامل نہ ہو کر “حکمت” کا ثبوت دیا ہے۔
انقرہ میں تعینات امریکی سفیر تھامس باراک نے اسی سیشن میں بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے دمشق کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے خطے سے اپنی فوجی موجودگی کم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ایک صدی سے جاری روایت کے برعکس عمل کیا ہے، اور گذشتہ کل ہم نے شام میں اپنے آخری فوجی اڈے سے اپنے آخری سپاہی کا بھی انخلاء مکمل کر لیا ہے۔
امریکی ایلچی نے دعویٰ کیا کہ جو شام کبھی مسائل کا شکار تھا اور ایران کے قریب سمجھا جاتا تھا، آج وہ خطے کے مستحکم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ شام کی جانب سے کوئی فوجی کارروائی نہ ہونے کے باوجود کوئی معاہدہ کیوں نہیں ہو رہا، تو باراک نے کہا کہ 8 دسمبر سنہ 2024ء سے اب تک احمد الشرع کی قیادت میں شام نے قابض اسرائیل پر ایک گولی تک نہیں چلائی اور وہ دشمنی نہیں چاہتے۔
تاہم انہوں نے بنجمن نیتن یاھو کے عزائم بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد بنجمن نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے اور وہ اب سنہ 1967ء یا سنہ 1974ء کی کسی لائن کو تسلیم نہیں کرتے۔
امریکی ایلچی نے دعویٰ کیا کہ شام نے تصادم سے دور رہ کر عقل مندی دکھائی ہے، اسی لیے قابض اسرائیل کی طرف سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شام اور قابض اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی شاید لبنان سے بھی پہلے ہو جائے۔
واضح رہے کہ انطالیہ ڈپلومیٹک فورم میں 150 سے زائد ممالک کے 5 ہزار کے قریب مندوبین شریک ہیں، جن میں 20 سے زائد سربراہان مملکت شامل ہیں۔
سنہ 1974ء کا انخلاء کا معاہدہ اکتوبر سنہ 1973ء کی جنگ کے بعد شام اور قابض اسرائیل کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد دونوں افواج کو الگ کرنا تھا۔ تاہم 8 دسمبر سنہ 2024ء کو قابض اسرائیل نے اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے شامی علاقے جبل الشیخ پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بنجمن نیتن یاھو نے اس وقت کہا تھا کہ شامی فوج نے اپنے مورچے چھوڑ دیے ہیں اور وہ اپنی سرحدوں پر کسی بھی قوت کو برداشت نہیں کریں گے۔
