رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران میڈیا آفس نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں دامون جیل میں قید فلسطینی اسیر خواتین کو گذشتہ روز منگل کی فجر کے وقت قابض یماز فورسز کی طرف سے ایک سفاکانہ کریک ڈاؤن کا نشانہ بنایا گیا۔ قابض فورسز نے جیل کے وارڈز پر دھاوا بولا اور تمام اسیر خواتین کو کمروں سے باہر کھلے صحن میں نکال کر انتہائی ظالمانہ، توہین آمیز اور تذلیل آمیز سلوک کا نشانہ بنایا۔
میڈیا آفس کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس بربریت کے دوران اسیر خواتین کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انہیں پیٹ کے بل زمین پر لٹا کر پورے ایک گھنٹے تک اسی اذیت ناک حالت میں رکھا گیا، جو کہ ان کی انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی کھلی پامالی ہے۔
بیان کے مطابق اس کریک ڈاؤن کے دوران یماز فورسز نے کمروں میں موجود اسیر خواتین کے تمام کپڑے، انڈرویئرز، شیمپو، جوتے، ادویات اور تمام ذاتی نوعیت کا سامان زبردستی چھین کر کچرے میں پھینک دیا، اور انتہائی ظالمانہ اور توہین آمیز انداز میں ہر کمرے میں صرف ٹشو پیپر کا ایک بنڈل چھوڑا، جس سے اسیر خواتین کو پہلے سے درپیش انتہائی ابتر اور مشکل حالات میں مزید ہولناک اضافہ ہو گیا۔
تشدد کے اس مکروہ عمل کے ساتھ ہی متعدد اسیر خواتین کو دو الگ کمروں میں قید کر کے تنہائی (سیل) میں ڈال دیا گیا، جبکہ ایک بیمار اسیر خاتون کو صحت کے خراب حالات کے باوجود زبردستی تنہائی میں منتقل کر دیا گیا۔ اس تمام صورتحال کے دوران زیادہ تر اسیر خواتین میں خارش (اسکیبیز) کی بیماری پھیل چکی ہے، اور طبی عملے کی مجرمانہ غفلت کے باعث ان کی صحت کا گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔
اسیران میڈیا آفس نے زور دے کر کہا کہ ڈامون جیل میں قابض انتظامیہ کی طرف سے فلسطینی اسیر خواتین کے خلاف جاری یہ وحشیانہ مہم، بار بار دہرائے جانے والے کریک ڈاؤن اور اسیر خواتین پر بہیمانہ جسمانی تشدد اس غاصبانہ نظام کی مجرمانہ سوچ اور سادیت کی بدترین عکاسی کرتا ہے، جو ان کے انسانی حقوق اور وقار کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی اداروں اور اس شعبے سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسیر خواتین پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کا فوری نوٹس لیں، اس سفاکانہ تشدد کو رکوانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں، ان کی بنیادی طبی دیکھ بھال اور انسانی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائیں، اور ان سنگین خلافورزیوں میں ملوث تمام مجرموں کو کٹہرے میں لا کر سخت سزا دیں۔
