Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

پانی کی بندش سے وادیِ اردن میں 47 فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کا خطرہ

وادی اردان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمالی وادیِ اردن میں واقع بستیوں میں رہنے والے 47 سے زائد فلسطینی خاندان، جن میں تین سو سے زیادہ افراد شامل ہیں اور ان میں تقریباً آدھے بچے ہیں، اپنے گھروں سے جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ صورتحال قابض اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے ان کے رہائشی اجتماعات کو سیراب کرنے والے پانی کے نیٹ ورکس اور پائپ لائنوں کو تباہ کرنے کے بعد پیدا ہوئی ہے، جو زندگی کی بقا کا آخری سہارا تھے۔

متعلقہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ اقدام ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کسانوں اور مویشی پالنے والوں کا جینا محال کرنا ہے، کیونکہ یہی شعبہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے، اس کا مقصد انہیں اپنی زمینیں ہمیشہ کے لیے چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔

حقوقی ذرائع نے بتایا کہ پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ گذشتہ چند دنوں کے دوران “رأس الأحمر”، “الثعلہ” اور “عاطوف” کے مشرقی قصبے کے علاقوں تک پھیل گیا ہے، جہاں قابض فورسز اور یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے پانی کی ترسیل لائنوں کو کاٹ دیا اور پانی کے ٹینکرز کو ان علاقوں تک پہنچنے سے روک دیا۔

پانی کی شدید قلت پیدا کرنے کی اس گھناؤنی سازش کے ساتھ ساتھ قابض فوج نے شمالی وادیِ اردن میں “الخيط القرمزی” کے نام سے ایک نئی دیوارِ فاصل تعمیر کرنے کے لیے تیزی سے کھدائی اور زمین کو روندنے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو مقامی رہائشیوں کی زرعی اراضی، باغات، گرین ہاؤسز اور تازہ پانی کے کنوؤں کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

یہ نئی بستیوں کی دیوار تقریباً بائیس کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے، جو عین شبلی کے علاقے سے شروع ہو کر شمال میں نظامی چوکی تیاسیر تک جاتی ہے، اور خربہ عاطوف، رأس الأحمر اور متعدد قریبی بستیوں کی زمینوں کو کاٹتے ہوئے طوباس، طمون اور عاطوف کے مکینوں کی ذاتی ملکیتوں میں گھس جاتی ہے۔

توقع ہے کہ یہ دیوار مکینوں کو ان کی زمینوں سے مکمل طور پر کاٹ دے گی، جس کے نتیجے میں زرعی زمینوں اور زرخیز چراگاہوں کے پچاس ہزار دونم رقبے پر جبراً قبضہ کر لیا جائے گا، اور ان بستیوں کا معاشی اور خاندانی ماحول تباہ ہو جائے گا۔

حقوقی دستاویزات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رواں سال کے مارچ کے مہینے میں جب دیوار کے لیے کھدائی اور کٹائی کا کام شروع ہوا تھا، تب سے لے کر اب تک فارموں کی مٹی نکالنے، زیتون کے دسیوں سال پرانے درختوں کو اکھاڑنے، فصلوں کو مکمل تباہ کرنے اور آبپاشی کی لائنوں کے کلومیٹروں طویل حصوں کو منہدم کرنے کی وجہ سے اس خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

یہ تباہی فوج کی سرپرستی میں یہودی آباد کاروں کے روزانہ کے شدید حملوں کے ساتھ مکینوں کے لیے ایک بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے، جن میں بستیوں اور چراگاہوں پر دھاوا بولنا، مرکزی سڑکیں بند کرنا اور خاندانوں کو براہ راست حملوں کے ذریعے خوف زدہ کرنا شامل ہے تاکہ وہ اپنے مویشی چرانے یا باقی ماندہ پانی کے ذرائع تک پہنچنے سے باز رہیں۔

یہ خطرناک پیش رفت وادیِ اردن میں ایک مربوط آبادکارانہ جارحیت کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو مغربی کنارے کے تقریباً ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہے اور فلسطین کی خوراک اور اسٹریٹجک باسکٹ مانی جاتی ہے۔

فلسطینی وادیِ اردن طویل عرصے سے خاموش اور جبری انخلا کی پالیسیوں کی زد میں ہے، جن میں اس کے رقبے کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بند فوجی علاقوں یا قدرتی محفوظ علاقوں کے طور پر اعلان کرنا شامل ہے تاکہ بستیوں کی توسیع کی جا سکے، اور مکینوں کو بجلی، پانی اور بنیادی خدمات جیسی زندگی کی معمولی ترین سہولیات سے بھی محروم رکھا جا سکے۔

یہ حالیہ کشیدگی آبادیاتی طور پر اس علاقے کو خالی کرانے اور آبادیاتی اجتماعات کو الگ تھلگ کر کے اور انہیں بنجر اور ویران زمینوں میں تبدیل کر کے اس پر قابض اسرائیل کے مکمل کنٹرول کو مسلط کرنے کی ایک بے چین کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan