Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس نے شیخ حمد بن خلیفہ کے انتقال پر قطر سے اظہارِ تعزیت کیا

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نےامیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، شاہی خاندان، حکومت، قطر کے برادر عوام اور پوری امتِ مسلمہ سے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حماس نے اپنے ایک بیان میں مرحوم رہنما کو ایک عظیم قومی اور عرب لیڈر اور جدید قطر کا معمار قرار دیا۔ حماس نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور انہیں نے اپنے وطن، امت اور انسانیت کے لیے جو خدمات انجام دیں، ان کا بہترین صلہ عطا کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امیرِ قطر ایک صاحبِ بصیرت، اصول پسند اور انسانی و عرب اقدار کے حامل رہنما تھے۔ انہوں نے اپنے ملک، عوام اور امت کے مفادات اور فلسطین سمیت تمام منصفانہ مسائل کی حمایت کو ایک اٹل نصب العین اور اخلاقی ذمہ داری بنایا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور مختلف فورمز پر یہ واضح کیا کہ حقیقی امن صرف قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق کی بازیابی اور قدس شریف کو دارالحکومت بنا کر آزاد ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔

حماس نے کہا کہ ”غزہ کے حوالے سے ان کا تاریخی مؤقف ہمیشہ ایک سنگِ میل رہے گا، کیونکہ وہ پہلے عرب رہنما تھے جنہوں نے غزہ کے محاصرے کو توڑنے کے لیے جرأت مندانہ قدم اٹھایا اور غزہ کا تاریخی دورہ کیا۔ یہ دورہ اخوت، جوانمردی اور مشکل ترین حالات میں غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک عظیم پیغام تھا، جس نے اہل غزہ کا تنہائی سے نکالنے اور امید اور تعمیرِ نو کے نئے افق کھولنے میں کردار ادا کیا“۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے کئی مواقع پر اس بات کا اظہار کیا کہ غزہ تنہا نہیں ہے اور فلسطینی عوام کی حمایت ایک عرب اور اسلامی فریضہ ہے۔

حماس نے ان کے دور میں شروع کیے گئے ترقیاتی اور انسانی منصوبوں کا ذکر کیا، جنہوں نے فلسطینیوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان میں غزہ کی تعمیرِ نو، رہائشی شہروں (خاص طور پر شیخ حمد ریزیڈینشل سٹی)، صحت اور تعلیم کے مراکز (جیسے شیخ حمد بن خلیفہ الثانی ہسپتال برائے بحالی و مصنوعی اعضاء) شامل ہیں۔

بیان کے مطابق الشیخ حمد نے فلسطین کے لیے اپنے پختہ عزم کا ثبوت اس وقت دیا جب انہوں نے 16 جنوری 2009 کو غزہ پر جارحیت کے تناظر میں دوحہ میں عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلایا۔ یہ اقدام فلسطینیوں کے مصائب کے حوالے سے عرب مؤقف کو متحد کرنے کی ان کی کوشش کا حصہ تھا۔

حماس نے کہا کہ ان کے دور میں اور اب امیرِ شیخ تمیم کی زیرِ قیادت قطر، فلسطین کے لیے ایک حمایتی آواز اور غزہ کے عوام کا سہارا بنا ہوا ہے۔

آخر میں، حماس نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی فلسطین اور غزہ کے لیے کی گئی کوششوں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطین اور اس کے عوام، بالخصوص غزہ کے لیے ان کے موقف ہر فلسطینی اور عرب کے دل و دماغ میں محفوظ رہیں گے اور قطر کے عوام اور قیادت کی وفاداری، شرافت اور فیاضی کی گواہی دیتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ قطری دیوانِ امیری نے اتوار کی صبح 74 برس کی عمر میں شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال کا اعلان کیا، جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں قطر کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بااثر ریاست بنایا۔ شیخ حمد 1952 میں دوحہ میں پیدا ہوئے، 1971 میں برطانیہ کی سینڈہرسٹ ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کیا، 1977 میں ولی عہد بنے، 1995 میں اقتدار سنبھالا اور 2013 میں اپنی ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد الثانی کو منتقل کیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan