Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

امریکی جارحیت کے بعد خلیجی خطے میں جنگ کے خدشات شدت اختیار کر گئے

تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ نے گذشتہ شب دیر گئے ایران میں عسکری نظاموں اور ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں ۔ اسی اثناء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی عسکری مراکز اور اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف “حملہ آور ضربات” کی ایک نئی لہر چلانے کا اعلان کیا۔ ان حملوں میں درست نشانے والے گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے متعدد علاقوں میں درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ اس کی افواج نے ایرانی فوجی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار سائٹس، میزائل صلاحیتوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں لڑاکا طیاروں، امریکی بحری جہازوں کے علاوہ ڈرونز اور پہلی بار یک طرفہ خود کش ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔

سینٹرل کمانڈ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے اور اس پر ایران کا کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اس “غیر منصفانہ جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور من مانی اعلانات” کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حملوں نے جنوبی اور مغربی ایران کے وسیع علاقوں کو نشانہ بنایا، جن میں آبنائے کے قریب قشم جزیرہ، بندر عباس اور عراق سے متصل صوبہ خوزستان شامل ہیں۔

اپنے جوابی ردعمل میں اسلامی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی عسکری مراکز اور اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے پاسداران انقلاب کے کئی بیانات نقل کیے جن میں بتایا گیا کہ اردن میں امیر حسن ایئر بیس، بحرین میں امریکی ڈرونز کا کمانڈ سینٹر اور کویت میں علی السالم بیس سمیت دیگر فضائی اڈوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی ویب سائٹ ’نورنیوز‘ نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے مغربی اور وسطی علاقوں کے اڈوں سے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں جن میں خطے میں موجود امریکی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ویب سائٹ نے ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے یہ حملے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دشمن کی نقل و حرکت کی نگرانی کے بعد طے شدہ مقامات پر کیے گئے ہیں۔ مذکورہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ “مستفید ہونے والے عناصر کے خلاف ان کارروائیوں میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ ان نئے نشان زدہ مقامات پر حیران کن حملہ کیا گیا ہے۔”

یہ کشیدگی واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ تصادم کا نیا سلسلہ ہے جو 17 جون سنہ 2026ء کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے جس کا مقصد 28 فروری سنہ 2026ء کو شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا۔

عالمی منڈیوں پر اثرات کے تحت، تیل کی قیمتوں میں، جو اس مفاہمت کے اعلان کے بعد تیزی سے گر گئی تھیں، پیر کے روز ٹوکیو میں فیوچر کنٹریکٹس کے آغاز پر 3.5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan