تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی افواج نے ایران پر وسیع پیمانے پر جارحیت کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ایک نئی کشیدگی ہے جس کا جواب ایرانی افواج نے خلیج میں امریکی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے اندر فوجی اہداف کے خلاف فوجی حملوں کے ایک نئے دور کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کے اندر تقریباً 140 عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے آج اتوار کی صبح سویرے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا تازہ ترین دور مکمل کر لیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی جہازوں سے چلنے والے درست نشانے والے گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے میزائل سائٹس، ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں، گولہ بارود کے ذخائر، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کے مقامات کو تباہ کیا ہے۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ امریکی افواج نے تین راتوں کے دوران ایران کے اندر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے والی تہران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سمندری راستے سے نقل و حمل جاری ہے جسے عالمی تجارت کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، یہ بھی بتایا گیا کہ مئی کے اوائل سے امریکی افواج 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور تقریباً 400 ملین بیرل خام تیل کو آبنائے سے بحفاظت گزرنے میں مدد فراہم کر چکی ہیں۔
دریں اثناء، ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک اعلیٰ سطحی امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ حملوں کا یہ نیا دور گزشتہ ہفتے کی گئی کارروائیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہے، چاہے وہ اہداف کی تعداد کے لحاظ سے ہو یا ان جغرافیائی علاقوں کے لحاظ سے جہاں یہ حملے کیے گئے۔
عہدیداروں کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کا مقصد تہران کو واضح پیغام دینا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں اور جہاز رانی کی آزادی کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا۔
یہ امریکی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو ”اگلے نوٹس تک“ جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کا موقف ہے کہ ان کے نزدیک غیر مجاز سمجھے جانے والے راستوں سے جہازوں کو گزارنے کی کوششیں آبنائے میں نیویگیشن کے انتظام میں بیرونی مداخلت ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا کہ خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے میں جہازوں کا گزرنا بند رہے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے اطلاع دی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک ایسے جہاز کو سمندری کروز میزائل سے نشانہ بنایا جسے انہوں نے ایرانی انتباہات کو نظر انداز کرنے پر خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا۔
ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک تجارتی کارگو جہاز پر میزائل داغا جس سے اسے نقصان پہنچا۔
بعد ازاں، پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک غیر قانونی سمندری راستہ کھولنے کے لیے جہازوں کو دھکیل کر سلطنتِ عُمان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کوشش کو ایرانی بحریہ کے ”فیصلہ کن ردعمل“ کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی ٹیلی ویژن نے رپورٹ دی کہ امریکی افواج نے بوشہر صوبے میں عسکری اڈوں پر سات، دیر کے علاقے میں پانچ، اور عسلویہ میں چار میزائل داغے۔
ایرانی ٹی وی نے مزید کہا کہ ملک کے جنوب میں ہرمزگان صوبے کے شہر جاسک میں 10 سے زائد دھماکے جبکہ چاہ بہار کے نواح میں دو دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران بوشہر صوبے کے علاقے دیر میں پانچ دھماکے، بندرِ دیر شہر میں پانچ، عسلویہ میں چار اور بوشہر شہر میں تین دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی ٹی وی نے اطلاع دی کہ سیرک کے علاقے میں ساحلی پٹی کی پہاڑیوں پر گولے گرنے کے بعد دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ’مہر‘ نیوز ایجنسی کے مطابق قشم جزیرے پر بھی دھماکے ہوئے، جس سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ حملوں کا دائرہ کار ایران کے جنوبی ساحل کے کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خطے کے کئی ممالک میں امریکی اہداف اور اڈوں پر حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی ٹی وی پر فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک ”آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا“، اور واشنگٹن کو خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ”ایک طرفہ سودے بازی کا دور ختم ہو چکا ہے“، اور مزید کہا کہ واشنگٹن ”یا تو اپنے وعدوں پر قائم رہے یا قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہے۔“
ایرانی حملوں کی تفصیلات کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں ’امیر حسن‘ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ’ایم کیو-9‘ ڈرونز کے ہینگرز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سلطنتِ عُمان کی بندرگاہ ’دقم‘ میں لاجسٹک سپورٹ تنصیبات اور ایندھن فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا گیا۔
کویت میں ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے ڈرون سسٹمز کے ذریعے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں ایئر ڈیفنس بیٹریاں، گولہ بارود کے گودام اور ریڈار سائٹس شامل ہیں۔ جبکہ بحرین میں بھی امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ریڈار سائٹس کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے ایرانی مقامات پر امریکی جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں، اور خبردار کیا کہ امریکی حملے جاری رہے تو اس کا جواب مزید سخت دیا جائے گا۔
ایران نے گزشتہ عرصے کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں اس کے علاقائی پانیوں سے گزرنے سے پہلے ان سے رابطہ ضروری ہے، جبکہ امریکہ نے کسی بھی ایسے انتظام کو مسترد کر دیا ہے جو تہران کو جہاز رانی کے کنٹرول میں تنہا کردار دے۔
حالیہ پیش رفت نے گزشتہ ماہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے مستقبل کو نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اس یادداشت میں آبنائے کو دوبارہ کھولنے اور جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کی بات کی گئی تھی، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔
