Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

الجزیرہ رپورٹ: اسرائیل نے غزہ میں مبینہ طور پر جرائم پیشہ گروہوں کو منظم کیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) الجزیرہ ٹی وی چینل کی طرف سے نشر ہونے والی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں خصوصی معلومات، تصاویر اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر ان مسلح ملیشیاؤں کی ایسی بے سابقہ تفصیلات بے نقاب کی گئی ہیں جنہیں قابض افواج نے غزہ پٹی میں نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے دوران تشکیل دیا تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح فلسطینیوں کو تحفظ، امداد اور روزگار کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے ان گینگز کے لیے کام کرنے پر راغب کیا گیا، جس کے بعد وہ خود کو ایک ایسے نظام کا حصہ پانے پر مجبور ہو گئے جو براہ راست قابض دشمن کی فوج کے اشاروں پر کام کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جن بہت سے لوگوں نے نام نہاد ”یلو لائن“ (زرد لکیر) کے اندر اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کا رخ کیا، وہ وہاں لڑنے کی غرض سے نہیں گئے تھے، بلکہ وہ روزگار اور انسانی امداد کے وعدوں کے بعد ایک محفوظ زندگی کی تلاش میں وہاں پہنچے تھے۔ تاہم، بعد میں انہیں اندازہ ہوا کہ وہ حصار کی تلخ حقیقت سے نکل کر ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جسے ایک کارندے نے ”سب سے بڑا قید خانہ“ قرار دیا۔

خصوصی بیانات

الجزیرہ نے غزہ میں وزارت داخلہ کے ایک ذمہ دار ذریعے سے ان دو عناصر کے انٹرویوز حاصل کیے ہیں جو پہلے ان ملیشیاؤں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ ”یہ پورا عمل محض ایک فریب اور دھوکہ تھا،“ اس نے مزید کہا کہ جب اس نے اس اصل حقیقت کو دیکھا جس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا گیا تھا، تو اسے شدید مایوسی ہوئی۔

جبکہ دوسرے کارندے نے اعتراف کیا کہ وہاں پہنچنے کے چند ہی دنوں کے اندر ان تمام خوابوں کے محل مسمار ہو گئے جن کی تشہیر ان کے سامنے کی گئی تھی، اور انہوں نے خود کو ایک ایسے بند ماحول میں پایا جو مکمل طور پر قابض دشمن کے شکنجے میں تھا۔

رفح سے شمالی غزہ تک

رپورٹ میں پیش کردہ معلومات کے مطابق، ان گروہوں میں سے پہلا گینگ مئی سنہ 2024ء میں رفح شہر پر غاصبانہ حملے کے بعد منظر عام پر آیا، اور اس کی سرگرمیوں کا آغاز انسانی امداد کے ٹرکوں کو لوٹنے اور ان پر قبضہ کرنے سے ہوا، جو بعد میں باقاعدہ منظم جتھوں میں تبدیل ہو گئے۔

جولائی سنہ 2024ء میں ایک گینگ ابھرا جس کی قیادت یاسر ابو شباب نامی ضمیر فروش کر رہا تھا (جو بعد میں دسمبر سنہ 2025ء میں ہلاک ہو گیا) اور اس کے بعد غسان الدہینی نامی کارندے نے اس گینگ کی کمان سنبھالی۔ بعد ازاں، یہ غدار جتھے خان یونس تک پھیل گئے جن کی قیادت حسام الاسطل کر رہا تھا، اور وسطی گورنری میں احمد ابو نصیرہ اس کی کمان سنبھالے ہوئے تھا، یہاں تک کہ یہ نیٹ ورک غزہ شہر اور شمالی غزہ تک پہنچ گیا جہاں رامی حلس نامی آلہ کار اس گینگ کو چلا رہا ہے۔

قابض دشمن کے ساتھ براہ راست گٹھ جوڑ

الجزیرہ سے گفتگو کرنے والے دونوں عناصر نے تصدیق کی کہ ان ملیشیاؤں کے سرغنہ غزہ کے اندر کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج کے ساتھ وائرلیس پر براہ راست رابطے میں رہتے تھے۔

ایک کارندے نے اشارہ کیا کہ ”عمران“ نامی ایک اسرائیلی فوجی افسر مشن کی انجام دہی کے دوران ان گروہوں کے سرغناؤں کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتا تھا، جبکہ دوسرے نے بتایا کہ اسے غزہ کے اندر ایک آپریشن کے لیے تیار رہنے کا حکم ملا تھا، جس کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ مکمل طور پر قابض دشمن کی کمان کے تحت کام کر رہا ہے۔

الجزیرہ کو حاصل ہونے والی تصاویر سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان گروہوں کے ارکان کو عبرانی زبان کے باقاعدہ اسباق دیے جاتے تھے تاکہ قابض اسرائیل کی افواج کے ساتھ رابطے میں آسانی ہو۔

اغوا اور ٹارگٹ کلنگ

رپورٹ کے مطابق، یہ ملیشیا امدادی سامان پر قبضہ کرنے اور چوکیاں قائم کرنے کے ابتدائی کاموں سے آگے بڑھ کر جاسوسی کے مشن، سرچ آپریشنز اور مزاحمتی ونگ کی سرنگوں کی تلاش، بلکہ فلسطینیوں کے اغوا اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں براہ راست شریک ہونے لگی۔

معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گینگز سنہ 2025ء اور سنہ 2026ء کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے ایک سلسلے میں ملوث رہے ہیں، جن میں فلسطینی مزاحمت کے فیلڈ کمانڈرز، سکیورٹی افسران اور مقامی عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید برآں، رپورٹ میں طبی اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ افراد کے اغوا کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں وزارت صحت کے فیلڈ ہسپتالوں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مروان الہمص کا اغوا اور اسی کارروائی کے دوران صحافی تامر الزعانین کی شہادت شامل ہے، اس کے علاوہ لیڈی ڈاکٹر تسنیم الہمص کو بھی اغوا کیا گیا۔

پیچھے ہٹنے کا مطلب موت ہے

حاصل کردہ بیانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان جرائم پیشہ گروہوں سے علیحدگی اختیار کرنا کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔ ایک کارندے نے تصدیق کی کہ کامل القدوہ نامی شخص کے ہاتھ پاؤں پر صرف اس لیے گولیاں ماری گئیں تاکہ وہ ”ہر اس شخص کے لیے عبرت کا نشان بن جائے جو پیچھے ہٹنے کا سوچے“۔

دوسرے کارندے نے کہا کہ اس نے غداری اور یاری کا جو ”منظم نظام“ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس نے اسے تمام تر خطرات کے باوجود وہاں سے فرار ہونے کے فیصلے پر مجبور کیا۔

یہ تحقیقاتی رپورٹ اس نتیجے پر ختم ہوتی ہے کہ یہ گینگ غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جنگ کے دوران دھوکے دہی کی بنیاد پر بھرتی کر کے بنائے اور پھیلائے گئے، جو بعد میں قابض دشمن کے مفادات کے لیے جاسوسی، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ جیسے گھناؤنے عسکری و سکیورٹی مشن انجام دینے والے میدانی بازو بن گئے، جبکہ ان کی کالی سرگرمیوں کی بہت سی تفصیلات اب بھی پردہ غیب میں ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan