Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

ثالثی کوششوں میں اہم کامیابی، غزہ امن منصوبے پر مفاہمت حاصل، حماس

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے تصدیق کی ہے کہ تحریک اور فلسطینی دھڑوں نے گذشتہ ہفتے کے دوران ثالثوں کے ساتھ ملاقاتوں کا ایک وسیع سلسلہ منعقد کیا ہے تاکہ غزہ پٹی کے لیے امن منصوبے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کیا جا سکے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ان مشاورتوں کے نتیجے میں تینوں ثالث ممالک یعنی قطر، مصر اور ترکیہ کے ساتھ اہم مفاہمتیں طے پائی ہیں۔

پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حازم قاسم نے وضاحت کی کہ ان مفاہمتوں میں معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے مرحلے کے لیے مخصوص طریقہ کار کو وضع کرنا شامل ہے۔ اس میں کئی حساس فائلیں پیشِ نظر ہیں جن میں سب سے نمایاں سکیورٹی فائل سمیت مختلف شعبوں میں حکومتی اور انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے غزہ پٹی کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی کو بااختیار بنانا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی ہتھیاروں سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مفاہمتیں قاہرہ کے اجلاسوں میں شریک فلسطینی دھڑوں کے درمیان وسیع تر مشاورت کا نتیجہ ہیں۔ ثالثوں نے فلسطینی دھڑوں کے مؤقف اور ان کے جوابات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک ایسا مثبت اثاثہ قرار دیا ہے جس کی بنیاد پر ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور دیگر دھڑوں نے ثالثوں پر واضح کر دیا ہے کہ اس عمل کو مکمل کرنے کی ذمہ داری اب ان پر اور امن کونسل و اس کے مندوب نکولے ملادی نوف پر عائد ہوتی ہے، تاکہ غاصب اسرائیل پر خلاف ورزیاں روکنے اور طے شدہ مفاہمتوں کی پابندی کرنے کے لیے ضروری دباؤ ڈالا جا سکے۔

حازم قاسم نے بیان کیا کہ نکولے ملادی نوف کے دورہ قاہرہ اور فلسطینی دھڑوں بشمول اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کے دوران ایک ایسا وژن پیش کیا گیا جو ثالثوں کے ساتھ طے پانے والی گذشتہ مفاہمتوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس چیز نے منظرنامے کو پیچیدہ بنانے میں حصہ لیا اور اس مرحلے کے دوران کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک کا یہ مؤقف ہے کہ نکولے ملادی نوف اب بھی اس فائل کو قابض اسرائیل کے وژن کے قریبی زاویے سے دیکھ رہے ہیں، جس کا عکس ان کی حالیہ ملاقاتوں کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز میں بھی نظر آتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی دھڑوں نے گذشتہ عرصے کے دوران نکولے ملادی نوف کی طرف سے پیش کردہ تجویز کا جائزہ لینے کے لیے اپنی اندرونی اور دوطرفہ مشاورت جاری رکھی ہے، جس کا مقصد ایک ایسا متحدہ مؤقف تیار کرنا ہے جو فلسطینی عوام کے مفادات کا تحفظ کرے، غزہ پٹی پر جاری جنگ بندی میں مددگار ثابت ہو اور امدادی کاموں سمیت تعمیر نو کے آغاز کی راہیں کھولے۔

حازم قاسم نے اصرار کیا کہ ان تمام کوششوں کا بنیادی مقصد غزہ پٹی میں محصور فلسطینیوں کے مصائب و آلام کو کم کرنا اور حالات کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ماحول پیدا کرنا ہے، تاکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین انسانی اور معاشی اثرات کا تدارک کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan