Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ورلڈ سنٹرل کچن کی خدمات متاثر، غزہ میں خوراک بحران شدت اختیار کرنے لگا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے مظلوم عوام میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑانے والے ایک اقدام کے تحت فلاحی تنظیم “ورلڈ سنٹرل کچن” نے محصور پٹی میں اپنی امدادی سرگرمیوں کو جزوی طور پر محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ظالمانہ کٹوتی کا سب سے بڑا نشانہ پناہ گزین کیمپوں میں مقیم غریب، بے سہارا اور اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے مجبور فلسطینی خاندان بنے ہیں جنہیں فراہم کی جانے والی پکی پکائی گرم خوراک کی فراہمی روک دی گئی ہے۔

مختلف باوثوق ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو اس ہولناک فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم کی انتظامیہ نے غزہ میں اپنے مختلف شعبوں اور پروگراموں کے تحت کام کرنے والے لگ بھگ 700 ملازمین اور رضاکاروں میں سے کم و بیش 400 کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ اقدام فیلڈ آپریشنز کو کم کرنے اور تنظیم کی ازسرنو ساخت سازی کے بہانے اٹھایا گیا ہے۔

امدادی خدمات کی بندش اور کٹوتی کا المیہ

ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے تحت غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں قائم متعدد کمیونٹی کچنز (پکوان مراکز) کو مستقل طور پر تالے لگا دیے جائیں گے جبکہ وسطی غزہ کے علاقے الزوایدہ میں واقع تنظیم کے مرکزی ہیڈکوارٹر میں بھی کام کے دائرہ کار کو انتہائی محدود کر دیا جائے گا۔ اس کٹوتی کے براہ راست اور انتہائی مہلک اثرات وسطی اور جنوبی غزہ کے شہروں بالخصوص دیر البلح اور خان یونس میں پڑے گیں جہاں قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی ایک بہت بڑی تعداد پناہ گزین ہے، خاص طور پر خان یونس کے مغربی علاقے “المواصی” میں مقیم لاکھوں ستم رسیدہ انسان اس سے شدید متاثر ہوں گے۔

نوکری سے نکالے جانے والے ایک ستم دیدہ فلسطینی ملازم نے سسکتی آواز میں نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی ملازمین کو چھانٹی کے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا اور اس سنگدلانہ اقدام کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ مستقبل کے تقاضوں کے پیش نظر انسانی امداد کی فراہمی کے طریقہ کار اور تنظیمی ضرورتوں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ تباہ کن فیصلہ ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے مسلط کردہ مسلسل جنگ، بدترین نسل کشی، غربت کی ہولناک شرح اور مسلسل نقل مکانی کے باعث غزہ کے باسی تاریخ کے تاریک ترین اور انتہائی کٹھن انسانی حالات سے گزر رہے ہیں۔ لاکھوں مجبور خاندانوں کے پاس بقائے باہم کے لیے ان مفت ملنے والے کھانوں کے علاوہ زندہ رہنے کا کوئی دوسرا سہارا ہی نہیں ہے۔ اس کٹوتی نے ان غریب اور بے وطن خاندانوں کے مصائب اور بھوک میں مزید ہولناک اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل انتباہ جاری کر رہے ہیں کہ بنیادی غذائی اشیاء کی شدید قلت اور روزمرہ زندگی کے بدترین بگاڑ کے باعث غزہ میں انسانی المیہ قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

زندہ رہنے کا آخری سہارا

خان یونس کے مغربی علاقے المواصی میں ایک خستہ حال خیمے کے اندر کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے پناہ گزین احمد ابو شمالہ نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم جو کھانا فراہم کرتی تھی، وہی ان کے سات افراد پر مشتمل کنبے کے لیے زندہ رہنے کا واحد اور بنیادی ذریعہ تھا، کیونکہ قابض اسرائیل کے محاصرے کے باعث مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور آٹا یا دیگر بنیادی سامان خریدنا ان کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔

مظلوم شہری نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم روزانہ ان کھانوں پر تکیہ کیے ہوئے تھے کیونکہ ہمارے پاس نہ تو کھانا خریدنے کی سکت ہے اور نہ ہی خیموں میں کھانا پکانے کے لیے کوئی ایندھن یا برتن موجود ہیں۔ ان کچنز کی بندش اور کٹوتی سے معصوم بچوں اور بے بس بوڑھوں کی تکلیفیں مزید بڑھ جائیں گی اور بھوک انہیں نگل جائے گی۔

واضح رہے کہ “ورلڈ سنٹرل کچن” سنہ 2023ء سے غزہ پٹی میں سرگرم سب سے بڑی اور نمایاں بین الاقوامی امدادی تنظیموں میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ “فلسطینی ہی فلسطینیوں کو کھانا کھلائیں گے” کے اصول پر مبنی تھا جس کے تحت سینکڑوں غزہ کے مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کر کے ان فیلڈ کچنز کو چلایا جا رہا تھا۔

یہ تنظیم پورے غزہ میں 60 سے زائد کمیونٹی کچنز کا نیٹ ورک چلا رہی تھی اور اس کے تحت روزانہ پانچ لاکھ سے دس لاکھ کے درمیان گرم کھانے تیار کر کے تقسیم کیے جاتے تھے، جو کہ بدترین بحران کا شکار فلسطینیوں کے لیے فاقہ کشی سے بچنے اور کم از کم غذا کے حصول کی واحد امید تھے۔

اجتماعی سزا کا صہیونی ہتھیار اور بھوک کا راج

غزہ شہر سے ہجرت کر کے اس وقت دیر البلح کے ایک خیمے میں پناہ لینے والی مجبور ماں ام محمد المصری نے روتے ہوئے بتایا کہ اپنے گھر بار کی تباہی اور روزگار کے ذرائع ختم ہونے کے بعد اب ہزاروں خاندان صرف ان لنگر خانوں اور کمیونٹی کچنز کے رحم و کرم پر زندگی کی سانسیں کھینچ رہے ہیں۔

انہوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ غذائی امداد میں کسی بھی قسم کی کمی کا مطلب ہماری موت ہے۔ لوگ بھوک اور مسلسل ہجرت کے عذاب سے ٹوٹ چکے ہیں، کتنے ہی دن ایسے گزرتے ہیں جب ان لنگر خانوں سے ملنے والے نوالے کے علاوہ ہمارے بچوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ اسی لیے آج غزہ کا ہر فرد اس سروس کے بند ہونے کے خوف سے کانپ رہا ہے۔

گذشتہ اکتوبر سے جنگ بندی کے باوجود، قابض اسرائیل کی سفاک افواج نے غزہ میں تجارتی سامان اور انسانی امداد کی انٹری پر انتہائی ظالمانہ اور سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ پٹی میں داخل ہونے والی امداد طے شدہ مقدار کے محض 38 فیصد سے بھی کم ہے، جس کے نتیجے میں سوء تغذیہ (غذائی قلت) کی وباء پھیل چکی ہے اور قابض صہیونی دشمن نے غذا کو فلسطینیوں کے خلاف ایک اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔

ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی ایک حالیہ اور دل دہلا دینے والی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ مصنوعی بھوک اور غذائی قلت کے بحران نے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، نوزائیدہ بچوں اور چھ ماہ سے کم عمر کے معصوم شیرخواروں پر قیامت ڈھا دی ہے۔ تنظیم کی طرف سے جاری کردہ طبی ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید بمباری اور کڑے محاصرے نے نسل نو کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

سنہ 2024ء کے اواخر سے لے کر سنہ 2026ء کے اوائل تک ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز کے زیر انتظام یا ان کی مدد سے چلنے والے چار طبی مراکز کی رپورٹ کے مطابق، حمل کے دوران شدید غذائی قلت کا شکار ہونے والی ماؤں کے ہاں وقت سے پہلے بچوں کی ولادت اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین میں خودبخود حمل گر جانے (اسقاط حمل) کے واقعات اور غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج میں شدید رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔

ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز نے ان ہولناک نتائج کا ذمہ دار براہ راست قابض اسرائیل کی طرف سے بنیادی اشیاء کی درآمد پر عائد کردہ پابندیوں اور سویلین انفراسٹرکچر بشمول ہسپتالوں اور طبی مراکز پر کی جانے والی وحشیانہ سفاکیت کو ٹھہرایا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلسل عدم تحفظ، بار بار کی جبری ہجرت، امداد پر لگی ظالمانہ سنسرشپ اور علاج و غذا تک رسائی کا نہ ہونا، فلسطینی ماؤں اور ان کے معصوم بچوں کی صحت کے لیے سراسر تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan