فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی نکبہ کی 78ویں برسی اس سال ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب فلسطینی عوام سنہ 1948 کی جبری ہجرت کے بعد سے اپنے تاریخ کے خونی ترین اور پیچیدہ ترین مراحل سے گزر رہے ہیں۔ یہ برسی ایک ایسے ماحول میں منائی جا رہی ہے جہاں غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جنگ جاری ہے اور مغربی کنارہ سمیت مقبوضہ القدس میں قتل و غارت، ہجرت اور تباہی کی کارروائیاں عروج پر ہیں، جبکہ فلسطینی حلقے مختلف عسکری و سیاسی حربوں کے ذریعے ایک نئے “نکبہ” کو مسلط کرنے کی کوششوں پر مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔
فلسطینی ہر سال 15 مئی کو نکبہ کی یاد مناتے ہیں، یہ وہ سیاہ دن ہے جب سنہ 1948 میں تاریخی فلسطین کی سرزمین پر قابض اسرائیلی ریاست کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی صہیونی جتھوں کے ہاتھوں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے شہروں اور دیہاتوں سے زبردستی نکال باہر کیا گیا تھا۔
اس سال ان سرگرمیوں کا عنوان “ہم نہیں جائیں گے۔۔۔ ہماری جڑیں تمہاری تباہی سے کہیں زیادہ گہری ہیں” رکھا گیا ہے، جس کے تحت مغربی کنارہ، غزہ کی پٹی، پناہ گزین کیمپوں اور بیرون ملک مقیم فلسطینیوں نے بڑے پیمانے پر مارچ، ریلیاں اور عوامی میلے منعقد کیے۔ ان تقریبات کا مقصد اپنے قومی حقوق اور خاص طور پر “حق واپسی” پر ثابت قدمی کا اعادہ کرنا ہے۔
وسطی مغربی کنارہ کے شہر رام اللہ میں ایک مرکزی مارچ اور مہرجان منعقد ہوا جس میں سرکاری اور عوامی سطح پر بھرپور شرکت کی گئی۔ اس موقع پر فلسطینی پرچم، سیاہ جھنڈے اور واپسی کی علامت “چابیاں” اٹھائی گئی تھیں۔ اسی طرح مختلف عرب اور غیر ملکی ممالک میں موجود فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں بھی ایسی ہی تقریبات ہوئیں جہاں شرکاء نے سنہ 1948 میں اجاڑے گئے فلسطینی دیہاتوں اور شہروں کے ناموں والے کتبے اٹھا رکھے تھے۔
نکبہ جدید فلسطینی تاریخ کا سب سے زیادہ اثر انگیز واقعہ ہے، کیونکہ یہ اب محض سات دہائیاں قبل ہونے والی جبری ہجرت کی کوئی تاریخی یادگار نہیں رہا بلکہ ایک ایسی مسلسل حقیقت بن چکا ہے جو ہجرت، بے گھری، حق واپسی سے محرومی اور اب پیہم جنگوں، محاصرے اور جبری بے دخلی کی صورت میں ہر روز ایک نئی شکل میں جنم لے رہا ہے۔
فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے ڈیٹا کے مطابق سنہ 1948 میں صہیونی جتھوں نے 774 فلسطینی دیہاتوں اور شہروں پر قبضہ کیا تھا جن میں سے 531 کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دیا گیا، جبکہ اس دوران 70 سے زائد بڑے قتل عام کیے گئے جن کے نتیجے میں 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
ادارے نے اشارہ کیا کہ سنہ 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں فلسطینیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15.49 ملین تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے نصف سے زائد تاریخی فلسطین سے باہر مقیم ہیں، جن میں 6.82 ملین افراد عرب ممالک میں آباد ہیں۔
انہی اعداد و شمار کے مطابق ریاست فلسطین کی آبادی تقریباً 5.56 ملین ہے، جن میں سے 3.43 ملین مغربی کنارہ اور 2.13 ملین غزہ کی پٹی میں آباد ہیں۔ غزہ میں سنہ 2023 اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں قتل و غارت، جبری ہجرت اور زندگی کے بدترین حالات کے باعث آبادی میں 2 لاکھ 54 ہزار کی غیر معمولی اور تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔
نکبہ کی برسی اس وقت منائی جا رہی ہے جب غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ جاری ہے، حالانکہ 10 اکتوبر سنہ 2025 سے سیز فائر کا معاہدہ نافذ العمل ہے، مگر اس جنگ نے اجتماعی ہجرت اور جبری بے دخلی کے مناظر کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جسے فلسطینی پہلے نکبہ کے منصوبے کا ہی تسلسل قرار دیتے ہیں۔
جنگ کے آغاز سے ہی قابض اسرائیل کے جبری انخلاء کے احکامات غزہ کے باسیوں کا روزمرہ کا مقدر بن چکے ہیں، جہاں لاکھوں فلسطینیوں کو بمباری اور عسکری کارروائیوں کے سائے میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رہائشی ڈھانچے اور شہری سہولیات کی وسیع پیمانے پر تباہی نے بہت سے علاقوں میں واپسی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ آج غزہ، مغربی کنارہ اور مقبوضہ القدس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل قابض اسرائیل کی تاریخ کی انتہا پسند ترین حکومت کے زیر سایہ مختلف حربوں سے جاری نسل کشی اور بیخ کنی کی پالیسیوں کا عکس ہے۔
موجودہ برسی ان اسرائیلی پالیسیوں میں شدت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جن کا مقصد بستیوں کی توسیع، گھروں کی مسماری، املاک پر قبضے اور مغربی کنارہ میں فوجی جارحیت کے ذریعے فلسطینیوں پر گرفت مضبوط کرنا ہے، جبکہ قابض اسرائیل کے ایسے منصوبے اور قوانین بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا نشانہ فلسطینی اسیران ہیں۔
سنہ 1948 کے پہلے نکبہ اور آج غزہ میں جاری اجتماعی ہجرت کے درمیان فلسطینیوں کا یہ یقین مزید پختہ ہو گیا ہے کہ مسئلے کی بنیاد نہیں بدلی اور بے گھری کا سلسلہ مختلف صورتوں میں جاری ہے، تاہم اجاڑے گئے دیہاتوں کی یاد اور حق واپسی کا جذبہ 78 سال گزرنے کے باوجود فلسطینی شعور میں آج بھی پہلے کی طرح زندہ ہے۔
