غزب اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ انتہا پسند صہیونی آباد کاروں نے آج منگل کے روز الخلیل کے جنوب میں واقع شہر دورا کے مغربی علاقے سکہ میں خلہ عجوری کے مقام پر فلسطینیوں کی زمینوں پر زبردستی موبائل گھر (کرفانات) رکھنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
علاقے کے مکینوں نے تصدیق کی ہے کہ ان استیطانی تحرکات کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی ملکیتی زمینوں کے اندر فیلڈ ورک اور دیگر انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ دی ہے کیونکہ وہ اس قدم کو شہر کے مغربی علاقوں میں شہریوں کی اراضی کو ہڑپ کرنے کے حوالے سے ایک نیا اور خطرناک جارحانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی غاصب آباد کاروں نے الخلیل کے مغرب میں واقع قصبے بیت عوا میں ایک نئی بستی کی راہ ہموار کرنے کے لیے سڑک کی تعمیر شروع کی تھی، جس کے لیے طواس اور سکہ کے علاقوں میں العواودہ اور السویطی خاندانوں کی زمینوں کو بھینٹ چڑھایا گیا۔ یہ سڑک قصبے کے داخلی راستے پر قائم قابض فوج کے عسکری ٹاور کے قریب تعمیر کی جا رہی ہے۔
علاوہ ازیں غاصب آباد کاروں نے دورا قصبے کے مغرب میں واقع سیکڑوں کنال اراضی پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے تاکہ وہاں قائم ناجائز بستیوں کے مفاد میں نئی سڑکیں نکالی جا سکیں۔
گذشتہ فروری میں قابض اسرائیل کی اتھارٹیز نے الخلیل کے جنوب مغرب میں ایک شہری خالد احمد العجوری کے مکان اور محارب العمارین کے زرعی شیڈ میں کام روکنے کے نوٹس جاری کیے تھے۔
اسی طرح قابض فوج نے دورا قصبے کے سد بیت الروش سے السہل کے علاقے تک کسانوں کے لیے بچھائی گئی 4 کلومیٹر طویل واٹر سپلائی لائن کا کام بھی زبردستی رکوا دیا تھا۔ یہ منصوبہ وزارت زراعت کے تحت زیر تکمیل تھا جس سے درجنوں کسانوں کو فائدہ پہنچنا تھا۔
جنوری کے آخر میں قابض فوج نے الخلیل شہر کے مشرق میں بائی پاس روڈ 60 کے قریب واقع ہائی وے کے پاس وادی المگیر الحرايق محلے میں تجارتی اور زرعی تنصیبات کو مسمار کیا تھا۔ یہ کارروائی وہاں فلسطینیوں کی زمینوں پر غیر قانونی طور پر قائم کی گئی ناجائز بستی حاجائی کے مفاد میں کی گئی، جہاں احمد سلہب التمیمی نامی شہری کے 400 مربع میٹر پر پھیلے تجارتی شیڈ کو بھی گرا دیا گیا۔
الخلیل کے شمال مغرب میں واقع قصبے صوريف کے علاقے دير موسیٰ میں بھی قابض اسرائیلی فوج نے لگ بھگ 100 زیتون کے درخت جڑ سے اکھاڑ پھینکے، 10 دونم اراضی کو بلڈوز کیا اور غنیمات خاندان کی زرعی تنصیبات کو زمین بوس کر دیا تھا۔
مزید برآں قابض فوج نے اپنی بھاری مشینری کے ذریعے دورا قصبے کے قریب واقع گاؤں واد الشاجنہ میں ایک سیمنٹ کی دیوار بھی منہدم کر دی ہے۔
