Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

اسرائیلی قانون سازی پر حماس کی تنقید، خطرناک نتائج سے خبردار کر دیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس نسل پرستانہ قانون کے سنگین نتائج کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے جسے صہیونی کنیسٹ نے منظور کیا ہے، جس کے تحت ہمارے فلسطینی عوام کے اسیران کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بالخصوص ان اسیران کو جن پر قابض اسرائیل معرکہ طوفان الاقصیٰ میں شرکت کا الزام عائد کرتا ہے۔

حماس نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی پالیسی اور فاشسٹ قانون سازی ہمارے عوام کے ارادوں کو توڑنے یا انہیں اپنی مکمل قومی حقوق کے حصول تک جائز جدوجہد جاری رکھنے سے روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل کی یہ فاشسٹ اور نسل پرستانہ ’قانون سازی‘ ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور ایک نیا جرم ہے جو قابض اسرائیل کے جنگی جرائم اور فلسطینی عوام کے خلاف منظم خلاف ورزیوں کے ریکارڈ میں ایک اور اضافہ ہے۔

حماس نے واضح کیا کہ یہ ’قانون‘ باطل اور غیر قانونی ہے، اور یہ تمام بین الاقوامی قوانین اور میثاق، بالخصوص جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانون سازی میں فوجی عدالتوں کو دیے گئے غیر معمولی اختیارات، طریقہ کار اور ثبوت کے قواعد سے تجاوز کی اجازت، اور سزائے موت کے احکامات پر عمل درآمد کے انتظامات قابض ریاست کے انتقامی اور نسل پرستانہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت فلسطینی اسیران کے قتل کو قانونی شکل دینے اور عدالتوں کو انصاف کے کسی بھی معیار یا منصفانہ ٹرائل سے دور انتقام اور تشدد کے آلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق یہ قانون سازی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ قابض اسرائیل مستقبل میں ہونے والے تبادلے کے معاہدوں کے کسی بھی راستے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اس میں صراحت کے ساتھ طوفان الاقصیٰ کے اسیران کو کسی بھی رہائی کے معاہدے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور تمام انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

حماس نے اقوام متحدہ، عالمی فوجداری عدالت، انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی انسانی و حقوقی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور اس مجرمانہ قانون سازی کو روکنے اور اسے کالعدم قرار دینے کے لیے فوری اقدام کریں۔ حماس نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی اسیران کے خلاف مسلسل جرائم پر قابض اسرائیل کے رہنماؤں کا محاسبہ کیا جائے اور انہیں بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے، کیونکہ وہ آزادی کے اسیر اور ایسے مزاحمت کار ہیں جو ایک استعماری اور نسل پرستانہ قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں جس کی مذمت بین الاقوامی قوانین کرتے ہیں۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان نسل پرستانہ پالیسیوں پر عالمی برادری کی خاموشی قابض حکومت کو اپنے جرائم اور خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے پر اکسا رہی ہے۔

صہیونی کنیسٹ کی جنرل اسمبلی نے پیر کی شام دوسری اور تیسری خواندگی میں ان فلسطینی اسیران کے ٹرائل کے حوالے سے ایک خصوصی قانون کی منظوری دی جن پر قابض حکام سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں ملوث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ قانون کنیسٹ کے 93 ارکان کی اکثریت سے منظور کیا گیا، جسے دستور، قانون اور عدلیہ کمیٹی کے چیئرمین سمحا روٹمین اور کنیسٹ کی رکن یولیا مالینوسکی نے پیش کیا تھا۔

قانون میں یہ درج ہے کہ ان لوگوں کا ٹرائل کیا جائے گا جن کے بارے میں قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ ’سنگین ترین جرائم کے مرتکب‘ ہیں، اور یہ قانون ان کے خلاف سزائے موت تک کے احکامات جاری کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے، ساتھ ہی مستقبل کے کسی بھی تبادلے کے معاہدے میں ان کی رہائی پر پابندی لگاتا ہے۔

قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے ذکر کیا کہ یہ قانون اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے تحت ٹرائل کا سامنا کرنے والے اسیران کو ’کبھی بھی‘ رہا نہیں کیا جائے گا، یہاں تک کہ کسی ممکنہ تبادلے کے معاہدے کے فریم ورک کے اندر بھی نہیں۔

گذشتہ مارچ سنہ 2026ء میں صہیونی کنیسٹ نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر فلسطینی اسیران کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا، یہ ایسا قدم ہے جسے حقوقی حلقوں نے اسیران کے معاملے میں ایک غیر معمولی تبدیلی قرار دیا ہے۔

قابض حکام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل قید میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں سے 1283 اسیران کو ’غیر قانونی جنگجو‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

کمیشن برائے امورِ اسیران و آزاد شدگان، کلب برائے اسیران اور الضمیر فاؤنڈیشن کے جاری کردہ حقوقی اعداد و شمار کے مطابق، مئی سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران اور زیرِ حراست افراد کی تعداد 9400 سے تجاوز کر چکی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan