رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک وسیع فلسطینی قومی اجلاس نے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین “انرا” کے ان رجحانات کے خطرناک نتائج پر خبردار کیا ہے جن کا مقصد ہزاروں ملازمین کو برطرف کرنا اور بنیادی خدمات و پروگراموں کو کم کرنا ہے۔ اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی مہاجرین کے حقوق کو متاثر کرتے ہیں ایجنسی کے آپریشنز کے علاقوں میں سماجی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اس کے بین الاقوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
پیر 2 نومبر سنہ 2026ء کو رام اللہ شہر میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکریٹریٹ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والے اجلاس کے شرکا نے انرا کی ذمہ داری کی حفاظت کرنے، مہاجرین کے تئیں اس کے کردار اور ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے اور اس کی خدمات میں کمی کرنے یا اس کے ملازمین کے حقوق اور ان کے روزگار کے تحفظ کو متاثر کرنے والے کسی بھی اقدام کے قطعی انکار پر زور دیا۔
اجلاس میں جس کا عنوان “انرا کا مستقبل کہاں تک؟ وجودی چیلنجز اور مقابلے کے راستے” تھا ایجنسی کو درپیش سیاسی، مالی اور آپریشنز چیلنجز اور اس کے کام کرنے والوں کی بڑی تعداد کو برطرف کرنے سے اس کے بین الاقوامی فرائض کو انجام دینے کی صلاحیت پر مرتب ہونے والے خطرات پر بحث کی گئی، اس کے علاوہ مالی بحران کا مقابلہ کرنے اور اس کی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ اجلاس پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی سے ابھرنے والی “انرا کے مینڈیٹ اور کام کے تحفظ سے متعلق تمام امور کی پیروی کرنے والی اعلیٰ کمیٹی” کی دعوت پر، اور دائرة امورِ مہاجرین اور شمالی گورنریوں میں قومی و اسلامی فورسز کی کمیٹی کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مالی وسائل کی کمی کی روشنی میں ایجنسی کو درپیش مالی بحران کو فلسطینی مہاجرین اور ملازمین پر مالی خسارے کے نتائج ڈالنے کی وجہ نہیں بنایا جانا چاہیے، اور نہ ہی ایسے اقدامات کی اجازت دی جانی چاہیے جو انرا کے کردار کو کم کرنے اور اس کی ولايت کو اس کے مواد سے خالی کرنے کا باعث بنیں۔
