تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹر جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)سات اکتوبر 2023 اسرائیل کی عسکری و انٹیلیجنس تاریخ کا وہ دن بن گیا جس نے برسوں سے قائم ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔حال ہی میں ذرائع ابلاغ پر خبریں نشر ہوئی ہیں جس میں سات اکتبور کی ناکامی پر اسرائیلی فوج کے اعلی حکام اور اداروں کے خلاف انکوائری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔یعنی اب خود اسرائیلی فوجی قیادت اس ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے بیرونی اور جامع انکوائری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے کہا کہ صرف داخلی تحقیقات کافی نہیں، بلکہ ایک وسیع اور خودمختار تحقیق ناگزیر ہے تاکہ اس نوعیت کی ناکامی دوبارہ نہ ہو۔
اسرائیلی فوج کی داخلی تحقیقات میں تسلیم کیا گیا کہ 7 اکتوبر کو فوج اپنے بنیادی مشن، یعنی شہریوں کے تحفظ میں ناکام رہی۔ رپورٹس کے مطابق انٹیلیجنس وارننگز موجود تھیں مگر ان کا درست تجزیہ نہ کیا گیا، سرحدی دفاعی تیاری ناکافی تھی، اور ردعمل میں تاخیر ہوئی۔
جہاں تک اسرائیلی رد عمل کی بات ہے تو غاصب صیہونی فوج نے ایک پروٹوکول سیٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل پر اگر کسی دوسرے ملک کی فوج حملہ کرے تو اسرائیل اس فوجی حملہ کو نہ صرف اگلے پانچ منٹ میں ناکارہ بنا سکتا ہے بلکہ اس حملہ آور ملک پربھی انہی پانچ منٹ کے اندر اندر حملہ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن سات اکتوبر کے حقائق ہمیں بتاتے ہیں کہ حماس کے چند درجن جوانوںنے غاصب صیہونی فوج کے خلاف ایک ایسی ناقابل یقین کاروائی کاآغاز کیا جس نے غاصب اسرائیلی فوج کو نہ صرف شکست دی بلکہ چار گھنٹے تک اسرائیلی فوج مفلوج ہو گئی اور نتیجہ میں کئی اسرائیلی فوجیوں کو قیدی بنایا گیا اور انٹیلی جنس یونٹ 8200 سے اہم خفیہ دستاویز اور ریکارڈ بھی فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھ لگ گیا۔
اب جب یہ بات کی جا رہی ہے کہ اسرائیل کی ا س ناکامی اور سات اکتوبر کے آپریشن کے بارے میں بیرونی سطح کی انکوائری کی جائے اور اسرائیلی فوج کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے کہ کس نے غفلت کی تو ایسے موقع پر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ غاصب صیہونی فوج کو سات اکتوبر کے بعد سے ناکامی کا اعتراف کیوں کرنا پڑا اس کی اور کون کون سی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے والے حماس اور اس تنظیم سے تعلق رکھنے والوں کو سب کو ختم کر دیا جائے گا۔اسرائیل نے جنگ کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ حماس کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا، مگر طویل جنگ، وسیع تباہی اور شدید بمباری کے باوجود حماس کی عسکری و تنظیمی ساخت مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ مختلف علاقوں میں دوبارہ مزاحمتی کارروائیاں ہوتی رہیں۔آج بھی اگر جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ غزہ میں حماس کا وجود باقی ہے اور صرف باقی ہی نہیں بلکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ غاصب صیہونی فوج کے خلاف نبرد آزما ہے۔
دوسری ناکامی کی اہم وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے جنگی کارروائیوں کو یرغمالیوں کی رہائی سے جوڑا، مگر کئی مہینوں تک بیشتر یرغمالی صرف مذاکرات یا تبادلوں کے ذریعے واپس آئے۔ بعض واقعات میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران خود یرغمالیوں کی ہلاکت کی خبریں بھی آئیں، جس سے اندرونی دباؤ بڑھا۔لہذا اب اسرائیل کے لئے یہ بات پختہ ہو چکی ہے کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل اور اس کی غاصب فوج کو ناکامی کا سامنا رہا۔
اسرائیل کو ایک اور ناکامی جو عالمی سطح پر ہوئی اس میں عالمی رائے عامہ کا غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے حق میں نہ ہونا ہے۔ غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی شہادت ، تباہی، قحط اور انسانی بحران کے باعث اسرائیل کو شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نے جنگی جرائم کے الزامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس جاری کیں۔یہاں تک کہ عالمی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی خبروں میں جہاں اسرائیل کی ناکامیوں کے اعتراف کو اجاگر کیا گیا وہاں ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کو اندرونی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔نیتن یاہو حکومت کے خلاف مسلسل احتجاج ہوئے۔ اسرائیلی عوام اور اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ 7 اکتوبر جیسا حملہ کیسے ممکن ہوا۔ حکومت پر یہ الزام بھی لگا کہ وہ ریاستی انکوائری سے گریز کر رہی ہے۔اب اسی سات اکتوبر کے واقعات کی بیرونی انکوائری کا مطالبہ بھی کیا جا رہاہے۔
غزہ پر مسلط کردہ طویل جنگ میں جہاں غزہ میں انسانی نسل کشی ہوئی وہاں دوسری طرف فلسطینی مزاحمت کی کاروائیوں کی وجہ سے اسرائیل کو بڑے پیمانہ پر معاشی نقصان بھی ہوا، یعنی طویل جنگ اور مزاحمت نے اسرائیل کو معاشی کو طور پر بھی کمزور کیا۔طویل جنگ، ریزرو فوجیوں کی مسلسل طلبی، سیاحت کی کمی، سرمایہ کاری میں دباؤ، اور شمالی و جنوبی بستیوں کی خالی کروائی نے اسرائیلی معیشت پر بوجھ ڈالا۔
دوسری طرف سات اکتوبر کے بعد حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان یعنی فلسطین کی شمالی سرحد پر اسرائیل کے خلاف بڑے محاذ کا آغاز کیا جس نے اسرائیل کی فوجی اور عسکری قوت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔اسرائیل نے شمالی سرحد پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر حزب اللہ نے مسلسل راکٹ، ڈرون اور سرحدی حملوں سے اسرائیل کو دفاعی پوزیشن پر رکھا۔آج بھی صورتحال یہ ہے کہ غاصب اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ایک انچ بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔جنوبی لبنان سرحد کے قریب اسرائیلی علاقوں سے ہزاروں افراد کو نکالنا پڑا۔ یہ اسرائیل کے لیے نفسیاتی اور سیاسی نقصان تھا کیونکہ وہ اپنی آبادی کو محفوظ رکھنے میں دشواری محسوس کرتا رہا۔
سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں غزہ میں جنگ کے ساتھ لبنان میں کشیدگی نے اسرائیلی فوج پر دباؤ بڑھایا۔ رپورٹس میں یہ بھی آیا کہ اسرائیل پہلے ہی اپنی توجہ شمالی محاذ پر مرکوز کیے ہوئے تھا، جس سے غزہ سرحد پر غفلت ہوئی۔لبنان میں اسرائیل نہ مکمل جنگ چاہتا تھا اور نہ ہی مکمل خاموشی حاصل کر سکا۔ اس درمیانی کیفیت نے اس کی deterrence یعنی خوف و رعب کی پالیسی کو کمزور کیا۔آج بھی حزب اللہ طاقتور ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے حزب اللہ کی اعلی قیادت کو ٹارگٹ کیا اور ادرجنوں اہم کمانڈروں بشمول سید حسن نصر اللہ کو شہید کیا لیکن حزب اللہ آج بھی پہلے کی طرح طاقتور شکل میں موجود ہے۔اسی طرح الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر کے بعد غزہ اور لبنان میں ناکامی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اسرائیلی فوج میں بڑے پیمانہ پر استعفوں کا سلسلہ شروع ہوا، کئی ایک مقامات پر اسرائیلی فوج نے جانے سے انکار کیا۔ 7 اکتوبر کی ناکامی کے بعد کئی اعلیٰ فوجی افسران کو ہٹایا گیا یا انہوں نے استعفیٰ دیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق انٹیلیجنس، آپریشنز اور جنوبی کمان کے افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ 7 اکتوبر صرف ایک حملہ نہیں تھا بلکہ اسرائیلی سکیورٹی نظریے، انٹیلیجنس نظام، عسکری تیاری اور سیاسی قیادت کی کمزوریوں کا انکشاف تھا۔ غزہ میں شدید تباہی کے باوجود اسرائیل اپنے بنیادی اہداف مکمل حاصل نہ کر سکا، جبکہ لبنان میں بھی فیصلہ کن کامیابی نہ ملی۔ آج جب خود اسرائیلی فوج بیرونی انکوائری کا مطالبہ کر رہی ہے تو یہ اس بحران کی گہرائی کا واضح ثبوت ہے۔یعنی اسرائیل واقعی ڈوب رہاہے۔