غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے قطاع غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو تار تار کرتے ہوئے توپ خانے کی بمباری، رہائشی عمارتوں کو بارود سے اڑانے اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ان تازہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آج جمعرات کے روز شمالی غزہ پر کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر گیا جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق آج صبح شہر غزہ کے شمال میں واقع اہم شاہراہ ’الصفطاوی سٹریٹ‘ کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شہری موقع پر ہی شہید ہو گیا جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب شمالی غزہ میں جبالیا البلد کے ’حلاوہ پناہ گزین کیمپ‘ میں بے گھر فلسطینیوں کی خیمہ بستی پر قابض اسرائیل کی عسکری گاڑیوں اور کرینوں نے اچانک شدید فائرنگ کر دی، جس کی زد میں آ کر ایک شہری درمیانی نوعیت کے زخموں سے شدید متاثر ہوا۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ قابض افواج نے بيت لاہيا قصبے کے مشرق، شہر غزہ کے شمال مشرق اور رفح کے مختلف علاقوں میں بارودی مواد سے متعدد عمارتوں اور رہائشی مکانات کو زمین بوس کر دیا۔ علاوہ ازیں، خان یونس شہر کے جنوب اور المغازی پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقوں میں بھی قابض دشمن کی عسکری گاڑیوں کی جانب سے بے دریغ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد سے اب تک قابض دشمن کے حملوں میں شہدا کی تعداد بڑھ کر 1,501 ہو چکی ہے، جبکہ 5,323 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملبے کے ڈھیر کے نیچے سے اب تک 838 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
وزارتِ صحت نے مزید بتایا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس سفاکانہ ریاستی دہشت گردی اور نسل کشی کی مہم کے نتیجے میں شہدا کی کل مجموعی تعداد 74,392 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 175,440 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جو غزہ پر قابض دشمن کی طرف سے مسلط کردہ تباہی کے ہولناک حجم کو بے نقاب کرتا ہے۔
