Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

قابض عقوبت خانوں میں بچوں کی تنہائی قید کی شرح میں غیر معمولی اضافہ

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی اعداد و شمار نے سنہ 2023 سے اسرائیلی جیلوں کے اندر تنہائی میں قید کی کوٹھڑیوں میں ڈالے جانے والے فلسطینی اسیران اور اسیرات، بالخصوص کمسن بچوں کی تعداد میں ہولناک اضافے کا انکشاف کیا ہے۔

ایسوسی ایشن برائے ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جو معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت قابض اسیران کی انتظامیہ سے حاصل کیے گئے ہیں، تنہائی میں قید کیے جانے والے کمسن اسیران کی تعداد سنہ 2022 میں صرف ایک تھی جو سنہ 2023 میں بڑھ کر 50 ہوگئی اور پھر سنہ 2024 میں یہ تعداد 290 کمسن اسیران تک جا پہنچی ہے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تنہائی میں قید کیے جانے والے بالغ فلسطینی اسیران کی تعداد سنہ 2024 میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ کر 4493 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تنہائی میں رکھی جانے والی اسیرات کی تعداد سنہ 2022 میں 2 سے بڑھ کر سنہ 2024 میں 25 ہوگئی ہے۔

قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ تنہائی میں قید کو دو اقسام میں تقسیم کرتی ہے: ایک تادیبی تنہائی جو باضابطہ طور پر 14 دن تک ہوتی ہے اور دوسری روک تھام والی تنہائی جو چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔ اخبار ہارٹز کے مطابق درج شدہ زیادہ تر کیسز تادیبی تنہائی کے زمرے میں آتے ہیں لیکن اسے اجتماعی سزا کے طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔

تنہائی میں قید رکھنا سخت ترین سزاؤں کی ایک شکل ہے جو تشدد کے درجے تک پہنچ جاتی ہے، ماہرین نے اسیران پر اس کے سنگین نفسیاتی اور جسمانی اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

تحقیقات اور مطالعہ یہ بتاتے ہیں کہ تنہائی میں قید شدید نفسیاتی امراض کا باعث بن سکتی ہے، جن میں خودکشی کے خیالات کا بڑھنا، شناخت کا بحران، یادداشت کے مسائل، وہم اور شدید بے چینی شامل ہیں، اس کے علاوہ تنگ اور بند کوٹھڑیوں میں رہنے کی وجہ سے جسمانی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

تنہائی میں قید کے استعمال میں یہ اضافہ 7 اکتوبر سنہ 2023 سے فلسطینی اسیران کے حالات زندگی کو غیر معمولی طور پر سخت کرنے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ رہا ہونے والے اسیران اور وکلاء کے بیانات کے مطابق اسیران کو خوراک کی کمی، جیلروں کے پرتشدد حملوں، کتابیں یا ذاتی اشیاء رکھنے پر پابندی اور جیلوں کے اندر جلدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سامنا ہے۔

ایسوسی ایشن برائے ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس کے شعبہ اسیران سے وابستہ عناغ بن درور کا کہنا ہے کہ تنہائی میں قید ایک غیر معمولی اقدام کے بجائے اب ایک معمول کے ہتھیار میں بدل چکی ہے جسے کمسن بچوں اور خواتین کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے استعمال میں بڑے پیمانے پر اضافہ انسانی حقوق اور اسیران کی نفسیاتی و جسمانی حالت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر رہا ہے۔

دوسری جانب قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جیلوں کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی قانون شکنی پر سخت سزا دی جاتی ہے، ساتھ ہی یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا کہ یہ تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan