واشنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز پر عائد کردہ ظالمانہ پابندیوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ جج نے قرار دیا کہ یہ اقدامات غزہ پر قابض اسرائیل کی جاری نسل کشی کی جنگ پر تنقید کرنے کی وجہ سے ان کی آزادی اظہارِ رائے کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
واشنگٹن میں وفاقی جج رچرڈ لیون نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فرانسسکا البانیز کے پیش کردہ نظریات یا پیغام کی بنیاد پر ان کی آزادی اظہار کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ سے باہر قیام پذیر ہونا انہیں امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل تحفظ سے محروم نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن نے گذشتہ جولائی میں فرانسسکا البانیز پر پابندیاں عائد کی تھیں جنہوں نے اپنی متعدد رپورٹس میں غزہ میں قابض اسرائیل کی سفاکیت کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کی دستاویزی تصدیق کی تھی اور اس میں ملوث شخصیات و اداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ان پابندیوں میں ان کے امریکہ میں داخلے اور وہاں کسی بھی قسم کے بینکنگ معاملات پر پابندی شامل تھی۔ فرانسسکا البانیز کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف امریکی اقدامات عالمی سطح پر احتساب کے نظام کو کمزور کرنے کی ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
فرانسسکا البانیز کے شوہر اور ان کی بیٹی نے، جو کہ امریکی شہری ہیں، گذشتہ فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پابندیوں نے انہیں بینکنگ لین دین سے محروم کر دیا ہے جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت غزہ نسل کشی کے فائل سے منسلک عالمی عدالتی اداروں کے خلاف امریکی جارحیت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے فروری سنہ 2025 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت عالمی فوجداری عدالت کے اعلیٰ حکام اور ملازمین پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ یہ اقدام قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور سابق وزیر جنگ یوآف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے جواب میں کیا گیا تھا۔
اطالوی وکیل فرانسسکا البانیز نے اکتوبر سنہ 2023 سے رپورٹس کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مظالم نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے دباؤ اور پابندیوں کے باوجود قابض اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید پر مبنی رپورٹس جاری رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
رواں ماہ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انہوں نے اسلحہ اور ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں سمیت 60 سے زائد عالمی کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیوں کی حمایت کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانشیز نے گذشتہ ہفتے فرانسسکا البانیز کو غزہ میں بین الاقوامی قانون کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کے اعتراف میں سول آرڈر آف میرٹ سے نوازا تھا۔
وزیر اعظم سانشیز نے یورپی کمیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فرانسسکا البانیز پر عائد امریکی پابندیوں کو معطل کرنے اور عالمی فوجداری عدالت کے ان ججوں اور پراسیکیوٹرز کے تحفظ کے لیے یورپی بلاکنگ میکانزم کو فعال کرے جو غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم اور نسل کشی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یورپی یونین کا بلاکنگ میکانزم اسے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ان غیر ملکی قوانین یا فیصلوں پر عمل درآمد روک دے یا انہیں نظر انداز کر دے جو اس کے مفادات یا قانونی خودمختاری کے خلاف ہوں۔
