مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت آئندہ اتوار کو اپنے ہفتہ وار اجلاس کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی انروا کے ایک کمپاؤنڈ کے ملبے پر فوجی اور سکیورٹی تنصیبات قائم کرنے کے منصوبے کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اقدام مقبوضہ شہر میں فلسطینی وجود اور عالمی ادارے کی موجودگی کو ختم کرنے کے سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔
قابض اسرائیل کے اخبار یدیعوت احرونوت نے آج جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ اس منصوبے میں القدس میں تلہ الذخیرہ کے قریب قابض فوج کے لیے ایک میوزیم، بھرتی کا دفتر اور اسرائیلی وزیر سکیورٹی کے دفتر کا قیام شامل ہے۔
اخبار کے مطابق اس فیصلے کا مسودہ قابض فوج کے وزیر یسرائیل کاٹز نے تیار کیا ہے۔ اس میں نام نہاد اسرائیل لینڈ کونسل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹینڈر جاری کیے بغیر وزارت سکیورٹی کے لیے تقریبا 36 دونم اراضی مختص کرے۔ یسرائیل کاٹز نے اس قدم کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ القدس میں بھرتی کے دفتر کی موجودہ عمارت اب قابض فوج کی ضروریات کے مطابق نہیں رہی۔
یاد رہے کہ قابض حکام نے گذشتہ جنوری میں انتہا پسند اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی براہ راست نگرانی میں شیخ جراح میں واقع انروا کمپاؤنڈ کو مسمار کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس مقام کو نام نہاد اسرائیل لینڈ اتھارٹی کے حق میں ضبط کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔
یہ کمپاؤنڈ اقوام متحدہ کی ملکیت ہے اور اقوام متحدہ کے مراعات و استثنیٰ کے کنونشن کے تحت اسے قانونی تحفظ حاصل ہے جو اسے کسی بھی انتظامی، عدالتی یا قانون سازی کی کارروائی کے تابع ہونے سے روکتا ہے۔ اس حقیقت کی توثیق عالمی عدالت انصاف بھی کر چکی ہے۔
زیرِ غور منصوبہ تلہ الذخیرہ کے قریب واقع ہے جسے برطانوی انتداب کے دور میں پولیس سکول کے لیے اسلحہ خانے کے طور پر بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں قابض اسرائیل نے اسے جون سنہ 1967 کی جنگ میں ہونے والے معرکے کی یادگار میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس علاقے میں نام نہاد پیرا ٹروپرز ہیریٹیج ہاؤس بھی موجود ہے۔ قابض وزارت فوج کا کہنا ہے کہ بھرتی کے دفتر کو قابض پولیس سکول کی تاریخی عمارت میں منتقل کرنا ان مقامات کو دوبارہ سے جوڑ دے گا جو برطانوی انتداب کے دور میں ایک دوسرے سے منسلک تھے۔
اسرائیلی منصوبے کے مطابق فوجی خدمات کے لیے امیدواروں کی جانچ پڑتال قابض پولیس سکول کے کمپاؤنڈ میں ہوگی جبکہ بھرتی کے دیگر اقدامات تلہ الذخیرہ کے مقام پر جاری رہیں گے۔ وزارت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ عمارت جو پہلے پولیس سکول کے طور پر زیر استعمال تھی، بھرتی کے دفتر کی ضروریات کے لیے مثالی ہے کیونکہ اس کا ڈیزائن ایک بڑے اندرونی صحن کے گرد بنایا گیا ہے۔
اس منصوبے میں فوج کی نام نہاد میراث کے لیے ایک میوزیم کا قیام بھی شامل ہے جس میں نمائشی ہال، تعلیمی مراکز اور کانفرنس رومز ہوں گے۔ یہ تمام اقدامات مقبوضہ القدس میں عسکری رنگ کو غالب کرنے اور اسرائیلی بیانیے کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
