بعلبک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صیہونی دشمن کی مجرمانہ اور سفاکانہ کارروائیوں کے تسلسل میں پیر کے روز علی الصباح مشرقی لبنان کے شہر بعلبک کے مضافات میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تحریکِ جہاد اسلامی کے ممتاز رہنما وائل عبد الحلیم اور ان کی معصوم بیٹی جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے اس لرزہ خیز واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ “صہیونی غاصب دشمن نے آدھی رات کے وقت ایک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے بعلبک شہر کے جنوبی مضافاتی داخلی راستے پر واقع ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا جہاں ایک مظلوم فلسطینی خاندان مقیم تھا”۔
سرکاری خبر رساں ادارے نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ غاصب صیہونی دشمن کے اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں وائل عبد الحلیم اور ان کی 17 سالہ جوان بیٹی راما شہید ہو گئے جبکہ اس وحشیانہ بمباری کی زد میں آ کر دیگر کئی بے گناہ افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اس المناک اور بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ کے فوراً بعد لبنان میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ “مخیم الجليل” (الجلیل کیمپ) میں غاصب صیہونی ریاست کی اس بدترین سفاکیت اور نسل کشی کے خلاف شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ہزاروں کی تعداد میں بپھرے ہوئے مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ نئی درندگی اس نازک سیز فائر معاہدے کی مسلسل اور کھلی خلاف ورزیوں کا حصہ ہے جس کا اعلان گذشتہ 17 اپریل کو کیا گیا تھا اور ابھی گذشتہ جمعہ کو ہی اس میں مزید 45 دنوں کی توسیع کر کے اسے یکم جولائی تک بڑھایا گیا تھا۔
