Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

یسرائیل کاٹز کے اسیران کو پھانسی دینے کے فیصلے پر حماس کا سخت ردعمل

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی دشمن کے وزیرِ دفاع اور جنگی مجرم یسرائیل کاٹز کی جانب سے مظلوم فلسطینی اسیران کو فوری طور پر سزائے موت دینے کے احکامات جاری کرنا ایک انتہائی خطرناک پیش رفت اور تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ اس منظم دہشت گردی اور سفاکیت کا تسلسل ہے جو قابض دشمن ہماری غیور فلسطینی قوم کے خلاف روا رکھے ہوئے ہے۔

حماس نے پیر کے روز اپنے ایک پریس بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ بزدلانہ اور مجرمانہ فیصلہ ہماری مجاہد قوم کو اپنی سرزمین اور اپنے مقدسات کے دفاع میں جاری جائز جدوجہد اور مقدس مزاحمت سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔

بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہماری قوم نے غاصب دشمن کے ساتھ دہائیوں پر محیط معرکوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور پھانسیوں کی دھمکیاں ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں بلکہ یہ اقدامات ان کے دلوں میں اپنے حقوق کے تحفظ اور استعماری و یہود سازی کے منصوبوں کے خلاف مزاحمت اور ڈٹ جانے کے جذبے کو مزید جلا بخشتے ہیں۔

حماس نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور تمام حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور غاصب دشمن کی حکومت پر ہر ممکن طریقے سے دباؤ ڈالیں تاکہ اس باطل اور نسل پرستانہ فیصلے کو منسوخ کروایا جا سکے۔ حماس نے یہ بھی زور دیا کہ ہماری قوم کے خلاف مسلسل جرائم اور سنگین خلاف ورزیوں پر قابض دشمن کے رہنماؤں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور صیہونی وجود کا مکمل عالمی بائیکاٹ فعال کیا جائے تاکہ وہ ہماری قوم کی نسل کشی اور اپنی ہی دھرتی پر ان کے وجود کو مٹانے کے لیے جاری قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی پالیسیوں کو بند کرنے پر مجبور ہو جائے۔

قابض صیہونی حکومت کے اندر سب سے خطرناک قانون سازی کے تحت صیہونی پارلیمنٹ (کنيسٹ) نے مئی کی 11 تاریخ کو دوسری اور تیسری خواندگی میں ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والے معرکہ طوفانِ اقصیٰ کے شرکاء اور سینکڑوں فلسطینی اسیران پر ایک خصوصی عدالتی نظام کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے جس کا حتمی نتیجہ ان مظلوموں کو سزائے موت سنانے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔

یہ سیاہ قانون براہِ راست ان “ایلیٹ” مجاہدین کو نشانہ بناتا ہے جنہوں نے غلافِ غزہ میں موجود یہودی بستیوں کی طرف سرحد پار کرنے کے تاریخی آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ یہ قدم اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ صیہونی ادارہ قابض صہیونی عقوبت خانے کے اندر جاری “میدانی پھانسیوں” اور “سلو پوائزننگ” (آہستہ آہستہ مارنے) کی مجرمانہ پالیسی سے آگے بڑھ کر اب فلسطینی اسیران کے علانیہ قتلِ عام کو قانونی لبادہ پہنانے کی ناپاک کوشش کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ مارچ کے مہینے میں بھی صیہونی پارلیمنٹ نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت فلسطینی اسیران کو جیلوں کے اندر پھانسی دینے کی اجازت دی گئی تھی، جسے انسانی حقوق کے اداروں نے اسیران کے معاملے میں دشمن کی سفاکیت اور ایک بے مثال و خطرناک موڑ قرار دیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan