غزہ-(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سربراہ کی اہلیہ محترمہ امل الحیہ قابض اسرائیلی افواج کے ہاتھوں اپنے 4 بیٹوں اور 5 پوتوں پوتیوں کی شہادت کے باوجود صبر و استقامت کا پیکر بنی ہوئی ہیں۔ ان کے خاندان کے کئی چراغ گل کر دیے گئے اور اب ان کے پاس صرف عز الدین، تسنیم اور شیماء باقی بچے ہیں جو غزہ کی پٹی چھوڑنے سے صاف انکار کر چکے ہیں۔
سنہ 2008ء میں ان کا لختِ جگر حمزہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوا، جس کے بعد سنہ 2014ء کی جارحیت میں ان کا بڑا بیٹا اسامہ اپنی اہلیہ ہالہ اور تین بچوں خلیل، حمزہ اور امامہ سمیت جامِ شہادت نوش کر گیا۔ اس ہولناک حملے میں صرف ان کی پوتی امل اور پوتا عبد الرحمن معجزانہ طور پر محفوظ رہے، جو اس وقت محض تین برس کا بچہ تھا اور آج اپنی دادی کے ساتھ قطر میں مقیم ہے۔
گذشتہ برس ان کا ایک اور بیٹا ہمام اس وقت شہید ہوا جب قابض اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا۔ اسی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کا بھائی عزام گذشتہ جمعرات کو شہر غزہ میں شہادت کے رتبے پر فائز ہو گیا۔ ان کا تیسرا بھائی عز الدین جاری جنگ کے دوران شدید زخمی ہوا اور اس سفاکیت میں اس کے دو معصوم بیٹے خلیل اور محمد بھی شہید ہو چکے ہیں۔
محترمہ امل الحیہ نے الجزیرہ لائیوکو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کے تین بیٹے ہمام، عزام اور عز الدین جڑواں (تینوں ایک ساتھ پیدا ہونے والے) تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دو تو جنگ کے دوران شہید ہو گئے جبکہ تیسرا بیٹا شدید زخمی حالت میں بچا ہے، جس کی ایک ٹانگ کٹ چکی ہے اور اس نے اپنے دو بیٹوں کو بھی اس حالیہ نسل کشی میں کھو دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عز الدین شدید زخمی ہونے کے باوجود غزہ میں ہی مقیم ہے، جبکہ ان کے دوسرے بیٹے عزام کی ٹانگ کٹنے کے بعد کی تکالیف نے ان کا دل بوجھل کر دیا تھا کیونکہ محاصرے کے باعث وہاں عام سی درد کش ادویات بھی میسر نہ تھیں۔ اسی تکلیف کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ عزام کو شہادت دے دے تاکہ وہ اس اذیت سے نجات پا سکے۔
حماس رہنما کی اہلیہ اپنے کسی بھی شہید بیٹے کا آخری دیدار نہ کر سکیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اللہ نے انہیں وہ ہمت دی کہ جب ہمام شہید ہوا تو انہوں نے رب کا شکر ادا کیا اور جب اسامہ اور عزام کی شہادت کی خبر ملی تو وہ سجدہ شکر میں گر گئیں۔
ام اسامہ نے سنہ 2014ء کی جنگ میں اپنے بیٹے کے گھر پر ہونے والی بمباری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رمضان کا مہینہ تھا اور پورا خاندان روزے سے تھا، ان کی پوتی امامہ گھر پر میزائل گرنے سے چند لمحے قبل سورہ البقرہ کی تلاوت کر رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی اس حملے میں شدید زخمی ہو کر ملبے تلے دب گئی تھیں، جہاں سے نکلنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اسامہ، اس کی بیوی اور تین بچے شہید ہو چکے ہیں۔ انہیں پہلے ہی لمحے یہ احساس ہو گیا تھا کہ اس وحشیانہ بمباری میں کوئی زندہ نہیں بچا ہو گا۔
میں نے ان کے لیے شہادت مانگی، معذوری نہیں
عزام الحیہ سنہ 2022ء میں بھی شدید زخمی ہوئے تھے لیکن ترکیہ میں علاج کے بعد وہ دوبارہ غزہ کی پٹی پہنچنے پر بضد رہے۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ ان کے بیٹوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے کہ کون اپنے والد اور والدہ کے ساتھ قطر جائے گا، جس میں ہمام کا نام نکلا اور وہی دوحہ حملے میں شہید ہو گیا۔
محترمہ امل کہتی ہیں کہ ہمام نے غزہ کو خوشی سے نہیں چھوڑا تھا بلکہ قرعہ اندازی میں اپنا نام آنے پر وہ بہت رویا تھا، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ غزہ سے باہر رہنا اسے جنگ کے دوران اپنے لوگوں کے شانہ بشانہ رہنے کے اعزاز سے محروم کر دے گا۔
والدہ کے مطابق ہمام مسجد کا امام اور حافظِ قرآن تھا، اس نے اپنے نو مولود بچے کا عقیقہ دوحہ میں کرنے یا خوشی منانے سے صرف اس لیے انکار کر دیا تھا کیونکہ غزہ کے لوگ مصیبت میں تھے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران اس نے عید کی قربانی کرنے سے بھی گریز کیا۔
امل الحیہ نے کہا کہ جب انہیں عزام کے شدید زخمی ہونے کا پتہ چلا تو وہ غمگین ہو گئیں کیونکہ وہ اسے اذیت میں نہیں دیکھنا چاہتی تھیں اور اس کے لیے شہادت کی تمنا کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس جنگ میں اپنے خاندان کے بہت سے افراد اور بہنوں کو کھویا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے عزام کو نہیں دیکھا، صرف شہادت سے دو ہفتے قبل اس کی آواز سنی جب اس نے فون کیا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمیں الوداع کہہ رہا ہو۔ میرے بیٹے اور پوتے پوتیاں غزہ چھوڑنے کو تیار نہیں اور وہ وہیں کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں جو باقی اہل غزہ کا مقدر ہیں۔
خلیل الحیہ کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کا خاندان جنگ سے پہلے بھی سکون سے ناواقف تھا کیونکہ قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کی کوششوں کے باعث وہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتے رہتے تھے۔ وہ اسرائیلی جاسوسی کے ڈر سے فون کے استعمال اور طویل خاندانی ملاقاتوں سے بھی گریز کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کئی برسوں تک غزہ کے مشرقی علاقے شجاعیہ میں سرحد کے قریب رہے، جہاں بعض اوقات قابض اسرائیل کے ٹینک گھروں کے دروازوں تک پہنچ جاتے تھے اور خاندان کے افراد کو کپڑے بدلنے تک کا موقع نہیں ملتا تھا۔
قائدین کے بیٹے میدانِ عمل میں
محترمہ امل الحیہ اس بات پر فخر محسوس کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قائدین کے بچوں کو صفِ اول میں ہونا چاہیے اور قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں اپنے عوام سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
ان الزامات کے جواب میں کہ حماس رہنماؤں کے بچے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قیادت کی اولاد کو فوجیوں کے پیچھے نہیں بلکہ ان کے آگے ہونا چاہیے۔ ان کے بیٹوں نے وہی ہجرت، بھوک، خوف اور حملوں کی زندگی گزاری جو عام فلسطینیوں کا مقدر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بیٹوں نے کئی بار غزہ چھوڑنے کے مواقع ملنے کے باوجود وہاں سے نکلنے سے انکار کیا۔ فلسطینیوں کی استقامت کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی قیادت اور ان کے خاندان بھی ان کے ساتھ اسی مصیبت میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں کوئی خاص مراعات حاصل نہیں۔
ام اسامہ کا کہنا ہے کہ الحیہ خاندان نے اس جنگ اور اس سے پہلے اب تک 17 شہداء پیش کیے ہیں۔ ان کی بہن کے بھی دو بیٹے اس جنگ میں شہید ہو چکے ہیں جبکہ ان کے کئی رشتہ دار اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے غزہ کو ایک اجتماعی قبرستان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین خواہش سرحد کھلنے کے بعد غزہ واپسی ہے تاکہ وہ اپنے گھر کے ملبے پر کھڑے ہو کر شہداء کی ارواح کو سلام پیش کر سکیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے ہمام کے الفاظ یاد کیے جو دوحہ میں کہتا تھا کہ جب جنگ ختم ہو گی تو میں غزہ کی طرف رینگتے ہوئے جاؤں گا۔
حماس کے رہنما کی اہلیہ نے اہل غزہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ان کے بقول وہ قربانیاں دی ہیں جن کا بوجھ پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ فلسطینیوں کو فتح نصیب کرے، محاصرہ ختم ہو اور ان کی مشکلیں آسان ہوں۔
