غزہ-(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)غزہ کی پٹی سے انسانی حقوق کے ایک معتبر ادارے “غزہ سینٹر برائے حقوق انسانی” نے انکشاف کیا ہے کہ پانچ برس سے کم عمر کے فلسطینی بچوں میں شدید غذائی قلت کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال قابض اسرائیل کی جانب سے بنیادی اشیاء خوردونوش کی فراہمی پر عائد ظالمانہ پابندیوں اور صحت کی سہولیات کی تباہی کا نتیجہ ہے، جبکہ فلسطینی عوام کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کی سفاکیت کو 30 ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔
بدھ 13 مئی سنہ 2026ء کو جاری ہونے والے ایک بیان میں مرکز نے خبردار کیا ہے کہ سنہ 2026ء کے دوران پانچ برس سے کم عمر کے 71,000 سے زائد فلسطینی بچوں کو شدید غذائی قلت کے جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر سنہ 2025ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امداد کی روانی میں 37 فیصد تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2026ء کے ابتدائی تین ماہ میں امدادی سامان کی مقدار جو 167,600 میٹرک ٹن تھی، جنوری سے اپریل کے درمیان کم ہو کر محض 105,000 میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔ اس مجرمانہ کمی کی اصل وجہ قابض اسرائیل کی جانب سے مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت پر لگائی گئی بندشیں، امدادی ٹرکوں کو سرحدوں سے واپس بھیجنا اور جانچ پڑتال کے آلات میں جان بوجھ کر پیدا کی گئی فنی خرابیاں ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے اندر خوراک اور ایندھن کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔
حقوق انسانی کے مرکز نے دہلادینے والا انکشاف کیا ہے کہ 13 ہزار سے زائد فلسطینی بچے اس وقت انتہائی نازک حالت میں ہیں اور وہ فاقہ کشی کے باعث موت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ان معصوم جانوں کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت اور طبی خوراک کی ضرورت ہے، بصورت دیگر یہ بچے یا تو لقمہ اجل بن جائیں گے یا عمر بھر کی معذوری ان کا مقدر بن جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طویل جنگی جارحیت میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں میں ایسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جن پر بروقت خوراک اور ادویات کی فراہمی سے قابو پایا جا سکتا تھا، مگر غاصب دشمن کی نسل کشی کی پالیسی نے معصوم فلسطینیوں کو بنیادی حقِ زندگی سے بھی محروم کر دیا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں 13.5 فیصد سے لے کر 19 فیصد تک بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے ہیں۔
مرکز نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کی پٹی کی غذائی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی، کیونکہ ضرورت کے مقابلے میں صرف 38 فیصد ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی، جبکہ ایندھن کی فراہمی کی شرح 15 فیصد سے بھی کم رہی۔ مسئلہ صرف امداد کی مقدار کا نہیں بلکہ معیار کا بھی ہے، کیونکہ قابض اسرائیل نے اب بھی بچوں کے دودھ، وٹامنز اور ادویات سمیت درجنوں ضروری اشیاء کی غزہ آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد بچے اور تقریباً 37 ہزار حاملہ و دودھ پلانے والی مائیں غذائی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ ہولناک ہے کیونکہ فلسطینی عوام گذشتہ مہینوں میں بھوک اور پیاس کے بدترین مراحل سے گزرے ہیں جس کے اثرات سے وہ ابھی تک سنبھل نہیں پائے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 6 سے 59 ماہ کے 35,000 بچوں کے معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ ان کی بڑی تعداد کو فوری غذائی علاج کی ضرورت ہے۔ یہ محض کیلوریز کی کمی نہیں بلکہ خوراک میں تنوع کے فقدان اور دودھ کی عدم دستیابی کا مسئلہ ہے، جو غزہ کی نئی نسل کے مستقبل کو تاریک کر رہا ہے۔
غزہ میں غذائی قلت کا یہ بحران پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، سیوریج کے نظام کی تباہی اور ہسپتالوں کے لیے ایندھن کی قلت کے باعث مزید سنگین ہو گیا ہے۔ صاف پانی اور صفائی کے نظام کی عدم موجودگی میں یہ کمزور بچے متعدی بیماریوں کا آسان شکار بن رہے ہیں، جو ان کی اموات کی شرح میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
انسانی حقوق کے مرکز نے واضح کیا کہ بچوں کو خوراک سے محروم کرنا ان کے حقِ زندگی اور حقِ صحت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بنیادی ضرورت کی اشیاء کو بطور دباؤ استعمال کرنا ایک بدترین اجتماعی سزا ہے جو عالمی انسانی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔ غاصب صہیونی ریاست کی یہ پالیسیاں فلسطینیوں کی نسل کشی کے مترادف ہیں۔
مرکز نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرحدی گزرگاہوں سے خوراک، ادویات اور ایندھن کی فراہمی پر عائد پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کر معصوم بچوں کی زندگی بچانے کے لیے مداخلت کرے، غذائی قلت کے مراکز کو فعال بنانے میں مدد دے اور غاصب اسرائیل کی ان مجرمانہ پالیسیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ بیان کے آخر میں قابض اسرائیلی دشمن اور عالمی برادری کو اس انسانی المیے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
