Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

بیت المقدس: آباد کاروں کی اسرائیلی پرچموں کے ساتھ بڑی ریلی، ماحول مزید کشیدہ

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس میں جمعرات کی شام ہزاروں جنونی یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی افواج کی سنگینوں کے سائے میں قدیم شہر کے مشہور ترین دروازوں میں سے ایک، باب العامود کے علاقے میں اشتعال انگیز پرچم ریلی نکالی۔

اس ریلی میں قابض اسرائیل کے حکومتی اتحاد کے وزراء اور ارکان کنیسٹ نے بھرپور شرکت کی، جن میں انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر اور انتہا پسند وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نمایاں تھے۔ ان کے ہمراہ قابض پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام سمیت متعدد متشدد ارکان کنیسٹ بھی شامل تھے۔

ریلی کے دوران آباد کاروں نے اسرائیلی پرچم لہرائے اور ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عربوں کی موت کے نسل پرستانہ نعرے درج تھے۔ ان بینرز کے ذریعے مسجد اقصیٰ کی جگہ نام نہاد ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس موقع پر شرپسندوں نے وہاں موجود فلسطینی شہریوں اور صحافیوں پر تھوکا، انہیں مغلظات بکیں اور پرچم تھام کر رقص کرتے ہوئے ان پر حملے کیے۔

قابض افواج نے ریلی کو سکیورٹی فراہم کرنے کے بہانے باب العامود کی فصیل پر اپنے سنائپرز تعینات کر دیے اور پورے علاقے بشمول بیت المقدس کی شاہراہوں اور قدیم شہر کی گلیوں کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔

قابض پولیس نے فلسطینیوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی اور انہیں زبردستی اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا، تاکہ آباد کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نام نہاد وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے آج جمعرات کے روز ایک بار پھر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتے ہوئے وہاں دھاوا بولا ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کے خود ساختہ یوم یکجہتی القدس کے موقع پر اور پرچم ریلی کے آغاز سے قبل کیا گیا۔ واضح رہے کہ قابض اسرائیل عبرانی کیلنڈر کے مطابق سنہ 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس کے مشرقی حصے پر اپنے غاصبانہ قبضے کی خوشی میں ہر سال یہ تقریب منعقد کرتا ہے۔

القدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں مجموعی طور پر 1412 آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا، جبکہ اس دوران فلسطینی نمازیوں اور قدسیوں پر قابض اسرائیل کی جانب سے انتہائی سخت پابندیاں عائد رہیں۔

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مجرم صہیونی دشمن اور اس کے آباد کاروں کی یہ جارحیت مسجد اقصیٰ اور القدس میں ان کے دھاوے اور پرچم ریلیاں ہماری مقدس سرزمین کی شناخت بدلنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ حماس نے واضح کیا کہ یہ زمین ہمیشہ فلسطینی، عرب اور اسلامی رہے گی، خواہ قابض اسرائیل اپنی سفاکیت اور یہود سازی کے منصوبوں میں کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے۔

حماس نے جمعرات کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ یہ دہشت گرد قابض دشمن اپنے تمام تر اقدامات، دھاووں اور مقدسین پر تنگی کے باوجود ہمارے عوام کے دلوں سے القدس اور اقصیٰ کی عظمت اور رمزیت نہیں چھین سکتا۔ یہ اقدامات فلسطینیوں کے ثبات اور اپنے مقدسات کے دفاع کے عزم کو کمزور نہیں کر سکیں گے، بلکہ اس سے ان کے اندر مقابلے اور استقامت کا جذبہ مزید بڑھے گا۔ یاد رہے کہ اقصیٰ ہمارا عقیدہ، وابستگی اور وہ تاریخ ہے جو ہماری قوم اور عرب و اسلامی دنیا کے وجدان میں جڑیں رکھتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan