مقبوضہ مغربی کنارہ- (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب اور سفاک صہیونی دشمن کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ مزید ہولناک روپ اختیار کر گیا ہے، جس کے تحت آج ہفتہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ پر قابض اسرائیل کی درندہ صفت افواج نے وحشیانہ دھاوا بول دیا اور اس دوران سیدھی گولیاں چلا کر ایک اور بے گناہ فلسطینی شہری کو خون میں نہلا کر شہید کر دیا۔
فلسطینی وزارتِ صحت نے اس لرزہ خیز واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قابض اسرائیل کی جلاد فورسز نے جنین کیمپ میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 34 سالہ نوجوان نور الدین کمال حسن فیاض کو بے دردی سے شہید کر دیا۔
مقامی ذرائع نے نامہ نگار کو تفصیلات بتاتے ہوئے مطلع کیا کہ قابض اسرائیل کی مسلح افواج نے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ کیمپ پر یلغار کی اور وہاں موجود نوجوان نور الدین فیاض پر براہِ راست زہریلی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
فلسطینی ہلالِ احمر نے بتایا کہ ریڈ کریسنٹ کے طبی عملے نے کیمپ کے اندر ران میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہونے والے فلسطینی نوجوان کے جسدِ خاکی کو قابض اسرائیل کے اہلکاروں سے اپنی تحویل میں لیا۔
شہید نور الدین فیاض
قابض اسرائیل کی سفاک فوج نے جنین شہر اور اس کے غیور کیمپ پر مسلسل 481 ویں دن بھی اپنے وحشیانہ حملے اور جارحیت کو برقرار رکھا ہوا ہے، جہاں معصوم انسانوں کے قتلِ عام، بستیوں کی منظم بربادی اور ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ان کے اپنے ہی گھروں سے جبری طور پر نکال کر بے گھر کرنے کی سنگدلانہ مہم بلاتعطل جاری ہے۔
شجاعت کے پیکر نوجوان نور الدین فیاض کی اس شہادت کے بعد، مختلف فلسطینی اضلاع میں قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سفاکیت اور روزمرہ کے حملوں کے سائے تلے، سنہ 2026 کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے میں گرنے والے مقدس شہداء کی کل تعداد بڑھ کر 64 ہو چکی ہے۔
اس خونی سال کے دوران گذشتہ مارچ کا مہینہ سب سے زیادہ دلفگار اور دباؤ والا ثابت ہوا جس میں قابض دشمن نے 30 فلسطینیوں کو موت کی نیند سلا دیا، جبکہ اس کے مقابلے میں اپریل میں 13 شہداء، فروری میں 8 شہداء اور جنوری میں 6 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ جاری مئی کے مہینے کے آغاز سے لے کر آج تک 7 غیور فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
یہ ہولناک اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کو چن چن کر نشانہ بنانے اور ان کا وجود مٹانے کی کارروائیوں میں کتنا ہولناک اضافہ ہو چکا ہے، اور فوجی حملوں سمیت انتہا پسند صہیونی بدمعاشوں کے جتھوں کی غنڈہ گردی نے کس طرح تصادم کے دائرے کو وسیع کر کے کئی اضلاع، بالخصوص بار بار نشانہ بننے والے علاقوں کو خون سے لال کر دیا ہے۔
