Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

جنین کیمپ کی حمایت میں حماس اور جہاد اسلامی کا مشترکہ بیان

اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں صیہونی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنین کیمپ پر حملے کیلئے ہمارے پاس ناکافی اطلاعات تھیں اور بہت سے مسلح گروہ پہلے سے ہی جنین سے نکل چکے تھے۔

فلسطین کی مقاومتی تحریکوں “حماس” اور “جہاد اسلامی” نے ایک مشترکہ بیان میں جنین کے عوام کی مزاحمت کو سراہا۔ اس بیان میں حماس و جہاد اسلامی نے فلسطین میں جامع قومی منصوبے پر اتفاق کو ضروری قرار دیا اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے فلسطین کی تمام تحریکوں کے سربراہان کا ایک اجلاس بلانے پر زور دیا۔ حماس و جہاد اسلامی نے فلسطین کے لئے فکرمند رہنے والے افراد اور گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ خطرات سے نمٹنے و فلسطین کاز کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں۔ اسی سلسلے میں مصری و فلسطینی ذرائع نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ آئندہ دو ہفتے میں تمام فلسطینی گروہوں کے سربراہان کا مصر میں اجلاس منعقد ہو گا، جس میں محمود عباس بھی شریک ہوں گے۔

تاہم حماس و جہاد اسلامی نے اس مشترکہ بیان میں جنین کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مقاومت کی یہ کامیابی عوام اور مجاہدین کے باہمی اتحاد کے بغیر ناممکن تھی، ضروری ہے کہ اس کامیابی کو سنبھالیں اور اس کے گرد جمع ہو جائیں مخصوصاََ ان سازشوں اور منصوبوں کے خلاف جو بین الاقوامی فاشسٹ کرداروں کی مدد سے انجام دی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ صیہونی فوج نے سوموار کی صبح مغربی کنارے کے شمال میں جنین کیمپ پر فضائی و زمینی حملہ کر دیا تھا جو منگل کی شب تک جاری رہا۔ صیہونی فوج نے اپنے بیان میں خود اس بات کا اعلان کیا کہ وہ اڑتالیس گھنٹے سے جنین کیمپ پر عسکری آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عسکری کارروائی اس وقت اختتام کو پہنچی جب صیہونی فوج کے ترجمان “دانیل ھاگری” نے ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے جنین کیمپ میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔

دانیل ھاگری نے کہا کہ جنین کیمپ پر حملے کے لئے ہمارے پاس ناکافی اطلاعات تھیں اور بہت سے مسلح گروہ جنین سے نکل چکے تھے۔ حتیٰ وہ گروہ بھی جس نے چند ہفتے قبل ایک صیہونی آبادکار کو مغربی جنین میں قتل کر دیا تھا۔ جنین آپریشن کے نتائج کے حوالے سے ایک صیہونی اخبار نے اپنا تجزیہ یوں پیش کیا کہ اس عسکری کارروائی سے کوئی اسٹریٹجک تبدیلی حاصل نہ ہو سکی، یہ حملہ دکھاوے کی حد تک تھا اور صیہونی آبادکاروں کے لئے Pain killer Medicine تھی۔ یہ حملہ ایسی بیماری کے لئے عارضی چین کی گولی تھی جس کا کوئی علاج نہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan