مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک وسیع عسکری آپریشن شروع کیا، جس کے دوران متعدد دیہات اور قصبوں میں شہدا کی یادگاروں اور مجسموں کو مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور گرفتاریوں کی مہم چلائی گئی، جبکہ آنے والے دنوں میں اس آپریشن کو جاری رکھنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے نابلس گورنری میں ایک وسیع چھاپہ مار کارروائی شروع کی، جس میں اسلحے کی تلاش کے بہانے فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارنا اور گرفتاریاں کرنا شامل ہے، جبکہ قابض فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا آپریشن آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گا اور اس میں مزید فلسطینیوں کی گرفتاریاں اور دیگر مکانات پر چھاپے شامل ہوں گے۔
اس فوجی کارروائی کے دوران، قابض فورسز کے بلڈوزروں نے گورنری کے متعدد دیہات میں شہدا کی یادگاروں اور مجسموں کو مسمار کر دیا، جن میں نابلس کے جنوب میں واقع مادما گاؤں بھی شامل ہے، جہاں شہدا کی یادگار کے ساتھ ساتھ دیگر کتبوں اور یادگاری سائن بورڈز کو بھی مسمار کر دیا گیا۔
مقامی رپورٹوں کے مطابق مسماری کی ان کارروائیوں میں بیت فوریک، عزموط، روجیب، عراق بورین اور مادما کے قصبوں میں شہدا کی پانچ یادگاریں شامل ہیں، جبکہ گردش کرنے والی ویڈیو مناظر میں صرف مادما گاؤں کے اندر ہی تین یادگاروں کی مسماری کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ان قومی علامات کو نشانہ بنانا فلسطینی قومی علامات پر اسرائیلی حملوں میں شدت کا حصہ ہے، جن میں یادگاریں، شہدا کی تصاویر اور ان کے ناموں کو محفوظ کرنے والے کتبے شامل ہیں۔ یہ اقدامات صرف مادّی یادگاروں کو مٹانے تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا مقصد فلسطینی قومی حافظے اور عوام کی عمومی زندگی میں ان علامات کی موجودگی کو نشانہ بنانا ہے۔
قابض حکام کی جانب سے مغربی کنارے میں ان مہمات میں شدت قابض وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کے بعد آئی ہے، جس کے ساتھ ہی متعدد علاقوں میں عسکری کارروائیوں اور چھاپوں میں وسعت دیکھی جا رہی ہے۔
الخلیل گورنری میں بھی قابض فورسز فلسطینیوں کے خلاف اپنی ننگی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں سینکڑوں شہریوں کو ان کے گھروں سے جلاوطن کرنے کے بعد ان کی املاک کو مسمار اور تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، جو کہ ایسے اقدامات کا حصہ ہیں جن کا مقصد رہائشیوں کی مصائب میں اضافہ کرنا اور انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔
نابلس میں جاری یہ عسکری آپریشن گذشتہ دو سالوں کے دوران شمالی مغربی کنارے کے کیمپوں پر قابض فورسز کی جاری جارحیت کا ہی ایک تسلسل ہے، جہاں اس نے وسیع پیمانے پر ملٹری آپریشنز کیے جن کے نتیجے میں کیمپوں کے رہائشیوں کو جلاوطن ہونا پڑا، درجنوں مکانات مسمار کیے گئے اور ان کے اندر سڑکیں نکالی گئیں، جن اقدامات نے ان کیمپوں کی ہیئت بدل کر رکھ دی اور ان پر عسکری تسلط کو مضبوط کیا، جبکہ ساتھ ہی رہائشیوں کو ان کے گھروں کو لوٹنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
یہ تمام پیش رفت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم کے وسیع تر دائرہ کار کی عکاسی کرتی ہے، جو چھاپوں، گرفتاریوں، مکانات و املاک کی تباہی سے لے کر شہدا کے ناموں سے منسوب یادگاروں کو نشانہ بنانے تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ فلسطینیوں میں ان عسکری کارروائیوں کے تسلسل، شہریوں پر ان کے اثرات، املاک کے نقصان اور اپنے گھروں کو واپسی کے حق پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
