Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

القدس اور اطراف میں 1080 غیر قانونی آبادکاری یونٹس کی تعمیر کے لیے اسرائیلی ٹینڈرز جاری

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے رواں ماہ اکتوبر کے دوران مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے مشرقی اطراف میں 1080 یونٹوں کی تعمیر کے لیے دو استعماری ٹینڈرز جاری کیے ہیں، جو کہ فلسطینی زمین کی قیمت پر یہودی بستیوں کی توسیع اور استعماری موجودگی کو مضبوط بنانے کا ایک ہدف شدہ قدم ہے۔

کمیشن نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی کہ ان دونوں ٹینڈرز میں مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع ’بسگات زئیو‘ بستی میں 730 استعماری یونٹوں کی تعمیر، اور شہر کے مشرق میں واقع ’معالیہ ادومیم‘ بستی میں بزرگ شہریوں کے لیے 350 یونٹوں کی تخصیص شامل ہے۔

کمیشن نے بیان کیا کہ ٹینڈر نمبر 212/2026،رواں ماہ 13 اکتوبر کو شائع کیا گیا تھا پلان نمبر 101-0759894 کے تحت ’بسغات زیو‘ بستی کے مشرقی کنارے پر واقع ’دوخیفات‘ کمپلیکس میں 730 یونٹوں کے قیام پرمشتمل ہے۔

یہ منصوبہ چار قطعہ اراضی پر پھیلا ہوا ہے جن کا کل رقبہ تقریباً 27.529 دونم ہے اور اس میں فروخت کے لیے مخصوص رہائشی یونٹس اور طویل المدتی کرائے کے یونٹس شامل ہیں، جن کے ساتھ تجارتی و عملی سرگرمیوں اور سہولیات کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے۔

قابض حکام نے آنے والے 16 نومبر کی تاریخ کو بولیاں پیش کرنے کے لیے در کھلے جانے کا وقت مقرر کیا ہے، جبکہ 28 دسمبر سنہ 2026ء کو بولیاں جمع کرانے کی حتمی تاریخ طے کی گئی ہے۔

معالیہ ادومیم میں استعماری منصوبے کا دوبارہ اجرا

جہاں تک دوسرے ٹینڈر نمبر 207/2026 کا تعلق ہے جو رواں ماہ 7 اکتوبر کو شائع ہوا تھا، کمیشن نے اشارہ کیا کہ اس میں ’معالیہ ادومیم‘ بستی میں پلان نمبر 420/1/7/59/2 کے مطابق بزرگ شہریوں کے لیے 350 رہائشی یونٹوں کے قیام کے ساتھ ساتھ تجارتی اور عملی سہولیات شامل ہیں۔

کمیشن نے متوجہ کیا کہ ٹینڈرز کے ریکارڈ کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ پہلے بھی ٹینڈر نمبر 14/2026 کے تحت 10.842 دونم رقبے کے قطعہ زمین پر پیش کیا گیا تھا، لیکن بغیر کسی بولی کے ختم ہو گیا تھا، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اسی منصوبے کو دوبارہ مارکیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

یہودی آباد کاری کی توسیع اور فلسطینی جغرافیائی دائرے کی تنگی

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے اس بات پر زور یا کہ فروخت اور کرائے کے لیے مخصوص رہائشی یونٹوں، بزرگ شہریوں کے لیے رہائشی منصوبوں، اور تجارتی و سروسز نیز عملی سہولیات کے باہمی امتزاج کا یہ قدم یہودی بستیوں کے وظائف کی وسعت اور مختلف عمر کے یہودی آباد کاروں کو جذب کرنے کی ان کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ ان منصوبوں کا مسلسل اجرا اور ان کی دوبارہ مارکیٹنگ استعماری خطوط کو مستقل تعمیری اور ڈیموگرافک حقائق میں تبدیل کرنے، مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح پر قابض اسرائیل کا تسلط قائم کرنے، اور فلسطینی توسیع کے لیے میسر جغرافیائی گنجائش کو تنگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ پیش رفت قابض حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے اطراف میں استعماری منصوبوں کو آگے بڑھانے کے مسلسل عمل کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو زمین پر کنٹرول کو گہرا کرتی ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے اور بستیوں کی توسیع کے تسلسل کے دوران فلسطینی جغرافیائی تسلسل کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan