نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت میں قومی سکیورٹی کا انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے اور ان کا گھیراؤ تنگ کرنے کی پالیسیوں کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ وہ انتہا پسند صہیونی معاشرے کو خوش کرنے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کے لیے اس بار اس نے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں اذان کی صدا اور مساجد کے لاؤڈ سپیکروں کو نشانہ بنایا ہے۔
قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی اسیران کے خلاف سخت گیر اقدامات اور فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری و ان کی ناکہ بندی کو تیز کرنے کے بعد ایتمار بن گویر اب دینی شعائر کو نشانہ بنانے کی طرف بڑھ گیا ہے۔ وہ اذان پر پابندیاں عائد کرنے کو ایک سیکیورٹی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ قدم سرکاری اور پولیس اختیارات کو مسلسل استعمال کرتے ہوئے مزید انتہا پسندانہ پالیسیاں اپنانے اور متشدد اسرائیلی دائیں بازو کے ووٹ بینک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر نے پیر کے روز قابض پولیس کی جانب سے مقبوضہ نقب کے قصبے تل السبع کی ایک مسجد کا چالان (جرمانہ) کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ چالان اس بہانے بنایا گیا کہ لاؤڈ سپیکروں سے اذان کی آواز مقررہ حد سے زیادہ تھی۔ اس نے سنہ 1948ء کے تمام مقبوضہ علاقوں میں مساجد سے نکلنے والے جسے اس نے ’شور‘ قرار دیا، کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انتہا پسند وزیر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے تل السبع میں ایک مسجد کے سامنے کھڑی قابض پولیس کی گاڑی کی تصویر شائع کی اور بتایا کہ پولیس اہلکار اتوار کی شام وہاں پہنچے، آواز کا والیوم ناپا اور پھر ’غیر معقول شور‘ پیدا کرنے کے الزام میں چالان کاٹ دیا۔
ایتمار بن گویر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائیاں صرف تل السبع تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ اس نے کہا کہ اس کی قیادت میں طے پانے والی پالیسی کے تحت پولیس پورے ملک میں مساجد سے نکلنے والے شور کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں کر رہی ہے۔
اس مہم کے تازہ ترین اقدام میں، قابض پولیس نے اتوار کی شام تل السبع قصبے کے ابو عنزہ محلے میں مسجد الرحمہ کے قریب واقع ایک تعزیتی مجلس پر چھاپہ مارا اور ابو عنزہ مسجد کا چالان کر دیا، نیز وہاں موجود افراد کو قرآن کریم کی تلاوت کے دوران لاؤڈ سپیکر بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ عبادات اور دینی شعائر کو نشانہ بنانے پر مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
یہ قدم ان اقدامات کا تسلسل ہے جو قابض پولیس نے گذشتہ 30 ستمبر کو نقب کے حورہ اور تل السبع قصبوں کی مساجد کے خلاف لاؤڈ سپیکروں کے استعمال پر اٹھائے تھے، جس پر مقامی لوگوں کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا، بالخصوص اس وقت جب پولیس اہلکاروں نے ایک کارروائی کے دوران اپنے جوتوں سمیت مسجد کی بے حرمتی کی تھی۔
اذان پر پابندی کے لیے قانون سازی
ایتمار بن گویر کے تحرک صرف میدانی کارروائیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ مساجد میں لاؤڈ سپیکروں کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کی قانون سازی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ گذشتہ جولائی کے اوائل میں اسرائیلی کنسٹ نے بن گویر کی قیادت والی ’جیوش پاور‘ پارٹی کے انتہا پسند رکن تسفیکا فوگل کے پیش کردہ بل کو ابتدائی منظور میں پاس کر لیا تھا۔
قانون کے اس مسودے میں مساجد میں لاؤڈ سپیکر لگانے اور انہیں چلانے کے لیے پرمٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور پولیس کو خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کا اختیار دیا گیا ہے، ساتھ ہی 50 ہزار شیکل تک کا مالی جرمانہ عائد کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔
اگرچہ یہ مسودہ ابھی نافذ العمل قانون نہیں بنا ہے، لیکن قابض پولیس شور سے متعلق نافذ العمل قوانین کا سہارا لے کر مساجد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی اسے عبادت کی آزادی پر حملہ اور اپنی سرزمین پر مذہبی موجودگی پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
اذان انتہا پسندی کی دوڑ میں ایک سیاسی کارڈ
یہ اقدامات متشدد اسرائیلی دائیں بازو کے حساس ترین امور سے فائدہ اٹھانے کے ایتمار بن گویر کے اس طرزِ عمل کو بے نقاب کرتے ہیں، جس میں وہ فلسطینیوں اور ان کے مذہبی شعائر پر گھیراؤ تنگ کرنے کو سیکیورٹی سخت گیری کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے، تاکہ اپنی مقبولیت میں اضافہ کرے اور اپنے انتخابی ووٹ بینک کو وسعت دے سکے۔
عقوبت خانوں کے اندر جبر کی پالیسیوں اور گھروں کی مسماری میں تیزی لانے کے بعد، یہ انتہا پسند وزیر اب اذان کی آواز کو اپنے نشانے پر رکھے ہوئے ہے، اور مساجد و فلسطینی مذہبی مظاہر کو نشانہ بنانے والے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے سرکاری عہدے کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔
پولیس کے چالان اور قانون سازی کے مسودوں کے درمیان مقبوضہ نقب میں اذان پر گھیراؤ تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں شور کے بہانے سے ہٹ کر ایک مذہبی شعائر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایتمار بن گویر انتہائی انتہا پسند اسرائیلی دائیں بازو کے ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں اپنا مقام مضبوط کرنے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف مزید اشتعال انگیز کارڈ استعمال کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
