تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صہیونی ریاست کی معیشت پر جنگ کے تباہ کن اثرات کے باوجود قابض اسرائیل کی فوج سنہ 2026ء کے سکیورٹی بجٹ میں 40 سے 45 ارب شیکل کے خطیر اضافے کا مطالبہ کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں غاصب صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو پیر کی شام ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جہاں قابض اسرائیل کی وزارتِ مالیات کی طرف سے اس مطالبے کی شدید مخالفت متوقع ہے۔
یہ پیش رفت قابض ریاست کی سکیورٹی کابینہ (کابینیٹ) کے گذشتہ دو دنوں میں دوسرے ہنگامی اجلاس کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے، جو ایران، لبنان اور غزہ کی پٹی سے متعلق بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور فوجی اخراجات پر بڑھتے ہوئے شدید اختلافات کے سائے میں منعقد ہو رہا ہے۔
صہیونی اخبار “یسرائیل ہیوم” کے مطابق قابض اسرائیل کی وزارتِ سکیورٹی بجٹ میں 40 ارب شیکل کے اضافے کا مطالبہ پیش کرے گی جبکہ دوسری طرف وزارتِ مالیات کا مؤقف ہے کہ ان بے جا مطالبات کا “کوئی جواز موجود نہیں” ہے۔
قابض اسرائیل کے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اس اہم اجلاس میں وزارتِ سکیورٹی، قومی سکیورٹی کونسل اور وزارتِ مالیات کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے جن میں غاصب صہیونی حکومت کے وزیر سکیورٹی یسرائیل کاٹز اور وزیر مالیات بزلئیل سموٹریچ خصوصی طور پر شامل ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر اس جابرانہ مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا تو سنہ 2026ء کے لیے قابض فوج کا بجٹ بڑھ کر 183 سے 188 ارب شیکل تک پہنچ جائے گا، جبکہ اصل بجٹ کے مسودے میں یہ صرف 112 ارب شیکل تجویز کیا گیا تھا۔
اس وقت منظور شدہ بجٹ میں فوج اور سکیورٹی کا بجٹ تقریباً 143 ارب شیکل ہے، جس میں یہ اضافہ ایران کے خلاف گذشتہ 28 فروری کو بھڑکنے والی اسرائیلی و امریکی مشترکہ جنگ کے تناظر میں منظور کی جانے والی اضافی رقوم کے بعد ہوا ہے۔
غاصب دشمن کی وزارتِ سکیورٹی عسکری اخراجات میں گذشتہ تمام تر ریکارڈ اضافے کے باوجود مزید رقم کا یہ مطالبہ کر رہی ہے، جس کے بارے میں صہیونی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے “فرضی بجٹ” کا وہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا جس کا قابض اسرائیل بنجمن نیتن یاھو کی اندھی حمایت اور سکیورٹی اخراجات میں بار بار کی جانے والی حد سے زیادہ تجاوزات کی وجہ سے سنہ 2023ء سے مسلسل سامنا کر رہا ہے۔
سکیورٹی بجٹ میں ان متواتر اضافوں کے نتیجے میں دیگر تمام سرکاری وزارتوں کے بجٹ میں بڑی کٹوتیاں کرنا پڑی ہیں جس کا براہِ راست منفی اثر عوامی خدمات پر پڑا ہے، جبکہ دوسری طرف قابض اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ گرنے اور حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے مالیاتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
غاصب صہیونی فوجی حکام اپنے ان نئے مطالبات کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنوبِ لبنان میں جس “سکیورٹی زون” پر قابض فوج نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اس کے اخراجات بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ اس مقبوضہ علاقے کا رقبہ تقریباً 550 مربع کلومیٹر ہے جو کہ غزہ کی پٹی کے اندر قابض فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے مجموعی رقبے سے بھی دگنا ہے۔
قابض اسرائیل کی وزارتِ سکیورٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس اضافے کی ایک وجہ اصل تخمینوں کے برعکس میدانِ جنگ میں موجود ریزرو فوجیوں کی تعداد کا دوگنا ہونا اور جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی بحالی و دیکھ بھال کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہے۔
رپورٹ میں اس تشویشناک پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اس مطلوبہ رقم میں وہ ممکنہ اضافی اخراجات شامل نہیں ہیں جو ایران کے ساتھ دوبارہ تصادم شروع ہونے یا لبنان اور غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر ان منظرناموں میں سے کوئی ایک بھی سامنے آیا تو قابض اسرائیل کی وزارتِ سکیورٹی کا بجٹ 200 ارب شیکل سے بھی تجاوز کر جائے گا۔
اس کے برعکس قابض اسرائیل کی وزارتِ مالیات کا ماننا ہے کہ یہ نئے مطالبات موجودہ بجٹ کی “ناکام انتظامیہ” کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جس میں ریزرو افواج کو متحرک رکھنے کا ناقص طریقہ کار اور انسانی وسائل کا غلط استعمال شامل ہے۔
چینل نے وزارتِ مالیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وزارتِ سکیورٹی عشروں پر محیط اربوں کا مالیاتی خسارہ ایک بجٹ سے دوسرے بجٹ میں منتقل کر رہی ہے، اور انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “یہ پرانے قرضوں کو چھپانے کے لیے نئی کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں”۔
دوسری جانب صہیونی سکیورٹی ادارے یہ من گھڑت دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی فوجی کارروائیوں نے قابض اسرائیل کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ ریاستی آمدنی میں اضافے کی وجہ سے خسارے کے اہداف کو چھیڑے بغیر یا بجٹ کو دوبارہ کھولے بغیر اس مطلوبہ اضافے کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
تاہم وزارتِ مالیات اور بینک آف اسرائیل نے سخت خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی بجٹ کو مزید وسعت دینے سے قابض اسرائیل کی معیشت پر دباؤ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے گا، جس کا انجام بالاآخر عوامی خدمات میں مزید کٹوتیوں یا ٹیکسوں کی شرح میں ہولناک اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
