Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 7 اسرائیلی فوج شدید زخمی

جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک دھماکہ خیز ڈرون طیارے کے پھٹنے کے نتیجے میں دو افسران سمیت اپنے 7 فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے، یہ اعتراف حزب اللہ کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کے اقرار کے سائے میں سامنے آیا ہے۔

قابض فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں ایک دھماکہ خیز ڈرون پھٹنے کے باعث ایک فوجی شدید زخمی ہوا جبکہ ایک فیلڈ آفیسر اور دو دیگر فوجی درمیانے درجے کے زخمی ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے میں ایک فیلڈ آفیسر اور دو دیگر فوجی معمولی زخمی بھی ہوئے، تاہم فوج نے حملے کے مقام یا وقت کا تعین نہیں کیا، دوسری طرف حزب اللہ روزانہ کی بنیاد پر جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتی ہے۔

گذشتہ بدھ کے روز قابض فوج نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی لبنان میں ایک دھماکہ خیز ڈرون گرنے کے نتیجے میں 401 ویں بریگیڈ کے کمانڈر مئیر بڈرمین شدید زخمی ہو گئے جبکہ لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کا ایک ریزرو افسر درمیانے درجے کا زخمی اور ایک فوجی معمولی زخمی ہوا تھا۔

دوسری جانب حزب اللہ نے آج جنوبی لبنان کے قصبوں میں اسرائیلی گاڑیوں اور فوجیوں پر حملہ کرنے کا اعلان کیا اور اپنے بیانات کی سیریز میں کہا کہ اس کے یہ حملے سیز فائر (یا جنگ بندی) کی اسرائیلی دشمن کی خلاف ورزیوں اور جنوبی دیہاتوں پر اس کے حملوں کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے مزید تفصیلات دیے بغیر بتایا کہ انہوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے دبل، رشاف، البیاضہ، حداثا کے گردونواح، دیر سریان اور القوزح کے قصبوں میں اسرائیلی گاڑیوں اور فوجیوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے دبل اور رشاف کے قصبوں اور حداثا قصبے کے گردونواح میں قابض اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر ڈرونز اور بھاری میزائلوں کے بار بار کے وار کے ذریعے ایک وسیع پیمانے پر حملہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

جنوبی لبنان کے قصبے فرون میں ایک اسرائیلی ڈرون کے موٹر سائیکل پر حملے میں ایک شخص جامِ شہادت نوش کر گیا، لبنانی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایک دشمن ڈرون نے فرون قصبے میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کا ڈرائیور شہید ہو گیا۔

اب وہ ڈرونز جن میں حزب اللہ آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہے، قابض اسرائیل میں بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن رہے ہیں، کیونکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ان کے سراغ لگانے میں درپیش مشکل کے سبب انہیں ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور فوج پر زور دیا ہے کہ وہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل تلاش کرے۔

یہ سب کچھ ان میدانی حقائق اور اسرائیلی اعتراف کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے داغے جانے والے انتحاری ڈرونز جنوبی لبنان میں تعینات قابض اسرائیلی افواج کے لیے خطرے کے سب سے نمایاں ذرائع میں سے ایک بن چکے ہیں، کیونکہ انہوں نے گذشتہ ہفتوں کے دوران فوج کی صفوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کو جنم دیا ہے۔

یہ ڈرونز ایک باریک آپٹیکل فائبر دھاگے پر انحصار کرتے ہیں جو پرواز کے دوران اس پر لگی ریل سے بتدریج کھلتا ہے، جس سے جامنگ کے خطرے سے دوچار ریڈیو لہروں کے بجائے اس دھاگے کے ذریعے براہ راست احکامات اور تصاویر کی منتقلی ممکن ہو جاتی ہے۔

یہ صورتحال لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے درمیان سامنے آئی ہے، جو گذشتہ 17 اپریل سنہ 2026ء سے نافذ العمل سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں اگلے جولائی کے آغاز تک توسیع کی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 2 مارچ سنہ 2026ء سے قابض اسرائیل لبنان پر ایک وسیع حملہ شروع کیے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں 3073 افراد شہید اور 9362 دیگر زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan