غزہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی نکبہ کی 78ویں برسی کے موقع پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ارضِ فلسطین پر قابض اسرائیل کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی اسے کوئی خودمختاری حاصل ہے۔ حماس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ قابض دشمن کو مجرم قرار دے کر فلسطینی عوام، ان کی زمین اور مقدس مقامات کے خلاف جاری دہشت گردی کو بند کروائے اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی سمیت القدس کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔
نکبہ کی سالانہ برسی پر جاری کردہ اپنے بیان میں تحریک نے کہا کہ فلسطین پر قبضے اور فلسطینیوں کے خلاف بدترین مجازر اور جرائم کے ارتکاب کو 78 سال بیت چکے ہیں۔ بیان میں اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا گیا کہ قابض دشمن نے گذشتہ برسوں میں اپنی جارحانہ پالیسیوں میں اس حد تک اضافہ کیا کہ غزہ کی پٹی دو سال سے نسل کشی، فاقہ کشی اور نسلی تطہیر کی لپیٹ میں ہے، جس کے انسانی اثرات تاحال جاری ہیں۔
حماس نے مزید کہا کہ قابض دشمن کی حکومت گذشتہ سنہ 2025 اکتوبر میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ شہری آبادی کو براہ راست نشانہ بنانے اور بمباری کے نتیجے میں معاہدے کے نفاذ سے اب تک 850 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ حماس کے مطابق یہ بین الاقوامی قوانین اور میثاق کی کھلی خلاف ورزی اور زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کی مذموم کوشش ہے۔
اسی تناظر میں تحریک نے صیہونی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مغربی کنارہ، القدس اور مسجدِ اقصیٰ کے خلاف بستیوں کی توسیع، جبری بے دخلی اور مقدس مسجد پر دھاووں کے ذریعے اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اسیران کو سزائے موت دینے جیسے ظالمانہ قوانین کی قانون سازی اور قابض صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران کے خلاف سفاکیت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حماس نے سنہ 1948 میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے جرم کو جدید تاریخ کے خطرناک ترین جرائم میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج وہی پالیسیاں غزہ کی پٹی، مغربی کنارہ اور القدس میں دہرائی جا رہی ہیں، جبکہ عالمی برادری صیہونی دہشت گردی کو روکنے میں عاجز اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
حماس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ القدس اور مسجدِ اقصیٰ قابض دشمن کے ساتھ جاری جدوجہد کا مرکز رہیں گے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ خالصتاً اسلامی مقام ہے اور فلسطینی اس کے دفاع اور القدس کو فلسطین کا ابدی دارالحکومت ثابت کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہر قسم کی مزاحمت ان اقوام کا جائز حق ہے جو قبضے کے خلاف نبرد آزما ہوں اور بین الاقوامی قوانین بھی اس کی ضمانت دیتے ہیں۔ قابض دشمن کی موجودگی میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی دعوت صیہونی منصوبے کی جانبداری کے مترادف ہو گی۔
حماس نے صیہونی جرائم کے تسلسل کی ذمہ داری عالمی برادری پر عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قابض دشمن کے قائدین کا محاسبہ کیا جائے، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دوہرے معیار ترک کیے جائیں اور فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت دیا جائے۔
اسیران کے حوالے سے حماس نے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید مرد و خواتین اسیران کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تحریک نے ان کے خلاف بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر خبردار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مداخلت کی اپیل کی تاکہ اسیران کی سزائے موت کے قانون کو روکا جا سکے اور ان کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
تحریک نے سنہ 1948 میں اجاڑے گئے شہروں اور دیہاتوں کی طرف واپسی کے حق پر اپنی وابستگی دہراتے ہوئے اسے ایک ایسا انفرادی اور اجتماعی حق قرار دیا جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
حماس نے دنیا بھر میں موجود فلسطینیوں کو ثابت قدمی، قومی وحدت کی مضبوطی اور ہجرت و نسلی تطہیر کے منصوبوں کو مسترد کرنے کی دعوت دی۔ ساتھ ہی عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں بالخصوص غزہ اور القدس کے باسیوں کی سیاسی و انسانی بنیادوں پر مدد میں اضافہ کریں۔
اپنے بیان کے اختتام پر حماس نے مسئلہ فلسطین کی حمایت، غزہ پر مسلط جنگ کے خاتمے اور صیہونی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے عالمی سطح پر جاری عوامی احتجاج اور یکجہتی کی لہر کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے اس تحریک کو مزید تیز کیا جائے۔
