مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجرم قابض صہیونی دشمن اور اس کے آباد کاروں کی جارحیت، مسجد اقصیٰ پر ان کے دھاوے اور القدس میں منظم کیے جانے والے نام نہاد پرچم مارچ ہماری مقدس سرزمین کی شناخت بدلنے کی ناکام سازشوں کا تسلسل ہیں۔ حماس نے واضح کیا کہ یہ زمین فلسطینی، عرب اور اسلامی ہی رہے گی، چاہے قابض دشمن اپنی سفاکیت اور یہود سازی کے مذموم منصوبوں میں کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے۔
حماس نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ یہ دہشت گرد قابض دشمن، چاہے اپنے اقدامات، دھاووں اور اہل قدس و مرابطین پر تنگیوں میں کتنا ہی اضافہ کیوں نہ کر لے، ہمارے عوام کے دلوں سے القدس اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت اور ان کی علامتی اہمیت کو کبھی ختم نہیں کر سکے گا۔ دشمن کی یہ سفاکیت ہمارے عوام کے ثبات اور اپنے مقدسات کے دفاع کے عزم کو کمزور نہیں کر سکے گی، بلکہ اس سے ان کے اندر مقابلے اور ثابت قدمی کا جذبہ مزید بڑھے گا؛ کیونکہ مسجد اقصیٰ ایک عقیدہ، وابستگی اور ایسی تاریخ ہے جو ہمارے عوام اور عرب و اسلامی امت کے وجدان میں جڑ پکڑ چکی ہے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہماری مزاحمت مسجد اقصیٰ کے دفاع، اپنے عوام، زمین اور مقدسات کی حفاظت کے عہد و پیمان پر قائم رہے گی۔ ہماری سمت ہمیشہ آزادی اور غاصبانہ قبضے سے نجات کی طرف رہے گی، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں اور چاہے صہیونی جارحیت، منصوبے اور سازشیں کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو جائیں۔
جماعت نے عرب اور اسلامی امت سے سرکاری اور عوامی دونوں سطحوں پر مطالبہ کیا کہ وہ القدس اور مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنی تاریخی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کریں۔ حماس نے امت سے اپیل کی کہ اس مسلسل جارحیت کو روکنے، قابض دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے اور ہر ممکن طریقے اور ہر سطح پر دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔
فلسطینی حلقوں کی جانب سے ان اسرائیلی منصوبوں کے خلاف انتباہات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جنہیں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کے خطرناک ترین منصوبے قرار دیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ شہر پر قبضے کی 59 ویں عبرانی برسی کے موقع پر ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ قابض حکومت اور ہیکل تنظیمیں مسجد اقصیٰ کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کے درپے ہیں۔ ان منصوبوں میں سنہ 1967 کے بعد پہلی بار جمعہ کے روز مسجد پر دھاوا بولنا اور قبلہ اول پر زمانی و مکانی قبضے کے دائرہ کار کو وسعت دینا شامل ہے۔
ایک ہنگامی پکار میں القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ 14 اور 15 مئی سنہ 2026 (جمعرات اور جمعہ) کے ایام مسجد اقصیٰ کے خلاف ایک بے مثال جارحیت کے گواہ بن سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق قابض دشمن جاری جنگ اور مسلسل سفاکیت کے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد کے اندر تاریخی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
