غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی سفاک افواج نے آج بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی پے در پے خلاف ورزیوں کو جاری رکھا ہوا ہے اور خاص طور پر خان یونس اور غزہ کے مشرقی علاقوں میں وحشیانہ بمباری اور بارود سے عمارتوں کو اڑانے کی وسیع کارروائیوں کو انجام دیا ہے۔
مقامی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ آج صبح وسطی غزہ کی پٹی میں واقع علاقے المغراقہ پر قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے کی بمباری کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر گیا۔
ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج نے گذشتہ رات اور آج فجر کے وقت مشرقی خان یونس میں کم از کم 8 بڑے دھماکے کر کے رہائشی مکانات کو زمین دوز کرنے کی وحشیانہ کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں ہولناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی طرح قابض اسرائیل کی افواج نے مشرقی غزہ میں بھی بارود کی مدد سے عمارتوں کو اڑانے کی ایسی ہی ایک کارروائی انجام دی۔
متعدد مصدقہ ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل کی ظالم افواج نام نہاد زرد لکیر (الخط الأصفر) کے دائرے میں آنے والے باقی ماندہ گھروں اور رہائشی عمارتوں کو مکمل طور پر ملیا میٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کی توپ خانے نے مشرقی غزہ شہر پر شدید گولہ باری کی جبکہ قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے جنوبی غزہ کی پٹی میں مشرقی خان یونس کی سمت اندھا دھند اور شدید فائرنگ کی ہے۔
گذشتہ رات مغربی غزہ شہر میں واقع الشاطئ کیمپ پر قابض اسرائیل کے ڈرون حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 10 شہری شدید زخمی ہو گئے۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ اس فضائی حملے میں شمالی الشاطئ کے علاقے میں واقع ابو عاصی سکول کے آس پاس موجود نہتے شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس سے پہلے منگل کی شام جنوبی قطاع میں خان یونس کے علاقے مواصی پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہو گئے تھے جن میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی میں فضائی و توپ خانے کی بمباری کے ذریعے بے گھر پناہ گزینوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کے معاہدے کو مسلسل پامال کر رہی ہیں اور زرد لکیر کے اندر عمارتوں کو بارود سے اڑانے اور مسمار کرنے کے جرائم کے ساتھ ساتھ سامان، امداد کی ترسیل اور شہریوں کے سفر پر ظالمانہ پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دس اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر 936 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2,860 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ملبے کے نیچے سے 781 شہداء کے جسدِ خاکی نکالنے کے کیسز درج کیے گئے ہیں۔
جبکہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس چومکھی سفاکیت کے بعد سے اب تک کل شہداء کی مجموعی تعداد تقریباً 72,798 ہو چکی ہے اور 1,72,967 افراد زخمی ہوئے ہیں جو غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی اس مسلسل جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
