Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صحافی غیر محفوظ، غزہ میں عالمی نظام پر اعتماد کمزور

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی میڈیا فورم کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ رائے عامہ کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ کی پٹی میں کام کرنے والے صحافیوں کا بین الاقوامی تحفظ کے میکانزم اور اپنے خلاف ہونے والی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کی صلاحیت پر اعتماد شدید حد تک ختم ہو چکا ہے۔

اس سروے کے نتائج، جس میں غزہ کی پٹی میں سرگرم صحافیوں بشمول نامہ نگار، ایڈیٹرز اور فوٹوگرافرز کے ایک نمونے کو شامل کیا گیا تھا، ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں سے 74.5 فیصد صحافی سات سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔ سروے میں 91.5 فیصد شرکاء نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ذاتی یا ادارہ جاتی سطح پر عالمی یکجہتی کا کوئی حقیقی اثر محسوس نہیں کیا، جبکہ 57.4 فیصد نے عالمی یکجہتی کی سطح کو انتہائی کمزور قرار دیا۔

سفارتی ذرائع کے حوالے سے 95.7 فیصد شرکاء کا خیال تھا کہ بین الاقوامی مذمتی بیانات قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ناکافی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اب محض الفاظ سے نکل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح 55.3 فیصد نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کو غیر مؤثر قرار دیا، جبکہ 36.2 فیصد اسے محدود حد تک مؤثر سمجھتے ہیں اور صرف 8.5 فیصد نے اسے مؤثر قرار دیا۔

سروے میں مغربی میڈیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے بارے میں صحافیوں کی تشخیص پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ 68.1 فیصد نے مغربی میڈیا کی کوریج کو غیر متوازن قرار دیا، جبکہ 10.6 فیصد نے اسے جانبدارانہ قرار دیا۔ صحافیوں کے تحفظ میں انسانی حقوق کے اداروں کے کردار کو 89.3 فیصد شرکاء نے منفی قرار دیا، جس کی درجہ بندی کمزور سے انتہائی کمزور کے درمیان رہی۔

اسی تناظر میں 83 فیصد شرکاء نے اس بات کی تصدیق کی کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کے محاسبے کے حوالے سے عالمی سطح پر سنجیدگی کا فقدان ہے، جو بین الاقوامی بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان ایک واضح خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔

ترجیحات کے حوالے سے صحافیوں نے ایسے عملی اقدامات پر زور دیا جو محض ڈیجیٹل ہمدردی کی حدود سے باہر ہوں۔ 44.7 فیصد شرکاء کے نزدیک اولین ترجیح خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے خلاف حقیقی قانونی کارروائی اور عدالتی تعاقب ہے، اس کے ساتھ ساتھ مؤثر سیاسی دباؤ اور براہ راست میدانی تحفظ کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔

بڑے میڈیا اداروں کو بھیجے گئے براہ راست پیغامات میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وہ سالانہ رپورٹوں میں محض اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ایک انسانی مشن کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے کام کا مقصد سچائی کو بے نقاب کرنا ہے نہ کہ جرم کا ارتکاب کرنا۔

صحافیوں نے براہ راست مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں پیشہ ورانہ سلامتی کا سامان اور نشریاتی آلات شامل ہوں۔ انہوں نے بین الاقوامی تحفظ کے قوانین کو فعال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ عالمی خاموشی غزہ میں صحافت کو نشانہ بنانے کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے ایک سبز جھنڈی کی مانند ہے۔

مذکورہ بالا صورتحال کے دوران غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے گذشتہ ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اکتوبر سنہ 2023ء میں جنگ کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد تقریباً 262 تک پہنچ چکی ہے، اس کے علاوہ 420 صحافی زخمی ہوئے اور 50 کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 3 صحافی اب بھی لاپتہ ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan