غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے پیر کی شام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے تین اسیروں کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ذریعے رہا کر دیا ہے، یہ اقدام گذشتہ ماہ کے دوران رہا کیے جانے والے مختلف گروہوں کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والے اسیروں میں غزہ سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ کمال الحورانی، دیر البلح کے 26 سالہ احمد ابو عمرہ اور جبالیہ کے 62 سالہ عبد الرحمن الغلیظ شامل ہیں، جنہیں قابض صہیونی عقوبت خانے عوفر سے رہا کیا گیا ہے۔
رہائی کے فوراً بعد ان اسیروں کو شہداء الاقصیٰ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی صحت کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے طبی معائنے کیے گئے۔ رہا پانے والے فلسطینیوں کے جسموں پر شدید تھکن اور لاغری کے آثار نمایاں تھے جو قابض دشمن کے عقوبت خانوں میں انسانیت سوز حالات اور غیر انسانی سلوک کا نتیجہ ہیں۔
اسی تناظر میں گذشتہ ماہ اپریل سنہ 2026ء کے دوران غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے اسیروں کی رہائی کے متعدد واقعات دیکھنے میں آئے۔ ان تمام رہا ہونے والوں کو اسی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ 29 اپریل کو پانچ رہا پانے والے اسیر، جبکہ 26 اپریل کو 15 اسیر کیسوفیم گیٹ کے ذریعے پہنچے تھے۔
علاوہ ازیں 19 اپریل کو 24 اسیر اور 9 اپریل کو 14 اسیر ریڈ کراس کے عملے کے ہمراہ غزہ کی پٹی پہنچے تھے جنہیں مختلف اوقات میں رہا کیا گیا تھا۔
کلب برائے اسیران اور ہیئت برائے امور اسیران کے اعداد و شمار کے مطابق قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیروں کی کل تعداد 9600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں غزہ کی پٹی کے لگ بھگ 1250 اسیر شامل ہیں جنہیں قابض اسرائیل نے غیر قانونی لڑاکا قرار دے رکھا ہے۔ ان اسیروں میں 90 خواتین اور تقریباً 350 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 3532 سے زائد فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کے تحت قید رکھا گیا ہے۔
