Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

کوکنگ گیس بحران شدت اختیار کر گیا، غزہ میں روزمرہ زندگی متاثر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے محصورین کی زندگی جہنم بن گئی ہے جہاں کوکنگ گیس کے شدید بحران اور انسانی امداد کی بندش نے ایک نیا انسانی المیہ جنم دے دیا ہے۔ اکتوبر سنہ 2025ء سے جاری جنگ بندی کے اعلان اور انسانی پروٹوکول کے معاہدے کے باوجود قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ان لرزہ خیز حالات میں خیموں میں پناہ گزین ہزاروں خاندان اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کپڑے، پلاسٹک اور کوڑا کرکٹ جلا کر آگ دہکانے اور کھانا تیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

قابض اسرائیل کی جانب سے ایندھن اور کوکنگ گیس کی سپلائی میں انتہائی مجرمانہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور ضرورت کے برعکس ان اشیاء کو قطرہ قطرہ کر کے فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے باسیوں نے ابتدا میں لکڑی کو متبادل کے طور پر استعمال کیا تھا لیکن اب لکڑی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک کلو لکڑی کی قیمت 3 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جو ان خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہے جو گذشتہ طویل عرصے سے جاری نسل کشی اور سفاکیت کے نتیجے میں اپنے روزگار اور ذرائع آمدن گنوا چکے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایندھن کے لیے لکڑیوں کی تلاش بھی اب موت کے سائے میں ہوتی ہے۔ مجبور شہری مشرقی سرحدی علاقوں کا رخ کرتے ہیں جو قابض اسرائیلی فوج کی چوکیوں کے قریب ہیں جہاں ہر وقت منڈلاتے ڈرونز اور دشمن کی گولیوں کا نشانہ بننے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

مجبور و بے بس خاندانوں کی حالت زار اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ نائیلون، کپڑا اور پلاسٹک جلا کر آگ جلاتے ہیں جس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں بوڑھوں اور بیماروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ ایک پناہ گزین ابو بلال نے اپنی المناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کو گذشتہ دو ماہ سے کوکنگ گیس کا ایک قطرہ تک میسر نہیں آیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سارا دن لکڑی کا ٹکڑا یا نائیلون کا ذرہ تلاش کرنے میں گزار دیتے ہیں تاکہ زندگی کی رمق باقی رہ سکے۔ ان کے بقول ایک وقت کا کھانا تیار کرنے کے لیے کئی کلو لکڑی درکار ہوتی ہے جس پر روزانہ 30 سے 40 شیکل کا خرچہ آتا ہے جو موجودہ حالات میں ناممکن ہے۔

ابو بلال خود آنکھوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انہیں علاج کے لیے بیرون ملک منتقل ہونا تھا لیکن اب وہ گھنٹوں زہریلے دھوئیں اور آگ کے پاس بیٹھنے پر مجبور ہیں جو ان کی بصارت اور زندگی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

اسی طرح ایک بے گھر فلسطینی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے بڑے خاندان کے لیے کھانا پکانے کی خاطر گھنٹوں آگ کے سامنے بیٹھی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کبھی گیس کا سلنڈر مل بھی جائے تو وہ ناکافی ہوتا ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خاندانوں نے دھوئیں کی کثافت اور سانس پر اس کے اثرات کی بنیاد پر جلنے والے مواد میں تمیز کرنا شروع کر دی ہے۔ ان کے بچے صبح سویرے ہی پلاسٹک، پرانے قالین اور کپڑے کے ٹکڑے جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ بھوک مٹانے کا کوئی انتظام ہو سکے۔

طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ خیموں کے اندر پلاسٹک اور کپڑے جلانے سے پیدا ہونے والا زہریلا دھواں پناہ گزینوں کے پھیپھڑوں کو تباہ کر رہا ہے۔ غزہ میں صحت کا نظام پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے اور ادویات کی شدید قلت ہے، ایسے میں سانس کے دائمی امراض کا پھیلاؤ ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایندھن کی قلت، کاروبار کی بندش اور ذرائع آمدن کے خاتمے نے غزہ کے عوام کو جیتے جی مار دیا ہے۔ معاہدے کے باوجود قابض اسرائیل نے محاصرہ ختم کیا نہ ہی بمباری تھمی ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور خوراک، ادویات اور طبی سامان کی آمد پر ظالمانہ پابندیاں برقرار ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan