Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

ثالثوں کی کوششوں کے باوجود اسرائیلی جرائم میں اضافہ: حماس

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے گذشتہ رات رہائشی مکانات پر بمباری اور ان کے مکینوں کو دربدر کرنے کی صورت میں سامنے آنے والے مسلسل جرائم، خلاف ورزیاں اور بڑھتی ہوئی جارحیت ثالثوں کی سرپرستی میں طے پانے والے مفاہمت اور معاہدوں سے واضح انحراف اور کھلی بغاوت ہے۔

حازم قاسم نے وضاحت کی کہ طے پانے والی مفاہمت میں واضح طور پر یہ شرط موجود تھی کہ مجرم قابض اسرائیل کی افواج پیچھے ہٹیں گی اور زمین پر کوئی بھی نئی صورتحال مسلط نہیں کی جائے گی، تاہم قابض اسرائیل نے صریح مکر و فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے بمباری، تدمیر اور شہریوں کے رہائشی علاقوں کی طرف پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ زبردستی اپنی مرضی کی صورتحال مسلط کی جا سکے اور ہمارے لوگوں پر گھیرا تنگ کیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی عارضی خلاف ورزیاں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک منظم جارحیت ہے اور ثالثوں کی کوششوں و ضمانتوں کی کھلی توہین ہے، جو بیس لاکھ سے زائد انسانوں کے خلاف محاصرے، فاقہ کشی اور قتل و غارت گری کی صیہونی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

انہوں نے ثالثوں اور ان تمام فریقوں سے جنہوں نے شرم الشیخ معاہدے اور نام نہاد امن کونسل کی گواہی دی تھی، اپیل کی کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے، قابض اسرائیل کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرنے اور اپنے مجرمانہ تجاوزات سے پیچھے ہٹانے کے لیے فوری تحرک کا مظاہرہ کریں۔

قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں، جس کے لیے وہ پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری کرنے کے ساتھ ساتھ نام نہاد زرد لکیر (یلو لائن) کے اندر دھماکوں اور مسماری کی کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف سامانِ تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل اور شہریوں کے سفر پر ظالمانہ پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر (یا جنگ بندی) کے آغاز سے اب تک صیہونی بربریت کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد 890 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2677 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس دوران ملبے کے نیچے سے 777 لاشیں نکالی گئی ہیں۔

اسی طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین صیہونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر قریباً 72,783 افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 172,779 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جنگ کے نتیجے میں ہونے والے بھاری اور المناک جانی نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan